مجھے صحافت کی راہداریوں میں دو دہائیاں مکمل ہونے کو ہیں، جن میں سے زندگی کے بہترین 16 سال میں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے گزارے۔ میری صحافت ہمیشہ سے ایک کھلی کتاب رہی ہے، ایک ایسی کتاب جس کے دامن پر نہ کبھی سو روپے کی رشوت کا داغ لگا اور نہ ہی کسی کو بلیک میل کرنے کا دھبہ۔ میں نے ہمیشہ ان کانٹوں بھری راہوں کا انتخاب کیا جہاں لوگ قدم رکھنے سے بھی کتراتے ہیں۔ چاہے وہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ہو یا توہینِ مذہب کے مبینہ کیسز میں سسکتے وہ سینکڑوں خاندان جن کے بچے جیلوں میں پڑے ہیں؛ میں نے ہر معاملے کو صرف اور صرف انصاف اور صحافتی اصولوں کی بنیاد پر رپورٹ کیا۔
میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ مجھ سے کبھی غلطی نہیں ہوئی ہوگی، لیکن میں یہ حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میری کسی بھی رپورٹنگ کے پیچھے کبھی "بدنیتی" شامل نہیں تھی۔
جنوری 2025 میں جب مبینہ بلاسفیمی کیسز کے متاثرہ خاندانوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی، تو مین اسٹریم میڈیا کے کیمرے وہاں موجود تو تھے مگر ان کی سکرینیں مصلحت کا شکار ہو گئیں۔ میں نے خاموشی توڑنے کا فیصلہ کیا اور نابینا حافظ زم زم کی والدہ اور ایمان مزاری کا انٹرویو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نشر کر دیا۔ سچ کی تپش اتنی تیز تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر ایک کہرام مچ گیا۔
صحافتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے میں نے دوسرے فریق، مبینہ بلاسفیمی گینگ کے وکیل راؤ عبدالرحیم کو بھی 27 منٹ کا بھرپور وقت دیا تاکہ وہ اپنا موقف پیش کر سکیں۔ مگر سچ کا سامنا کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
اس دوران مجھے حافظ طاہر اشرفی کے بھائی حسن معاویہ (جو اب میرے خلاف درخواست گزار ہیں) نے فون کیا اور مذہبی جذبات کے نام پر مجھے قائل کرنے کی کوشش کی۔ جب انہوں نے "ایمان اور عشق" کی بات کی تو میرا جواب بڑا واضح تھا:
"حضور! یاد رکھیں میرے بڑے بیٹے کا نام محمد اور اکلوتی بیٹی کا نام فاطمہ ہے۔ مجھے عشقِ رسول ﷺ کے اسباق نہ پڑھائیں، مجھ سے انصاف اور قانون کی بات کریں۔ اگر کوئی واقعی مجرم ہے تو آپ کو فون کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔"
میں نے انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کی براہِ راست نشریات کے دوران بھی موقف دینے کا کہا، مگر صاحبِ موصوف کیمرے کے سامنے آنے کے بجائے شام کو کسی اچھے ہوٹل میں کھانے کی پیشکش کرتے رہے۔
فتووں کی زد میں میری زندگی:
جب دلائل ختم ہوئے تو بزدلانہ حربے شروع ہوئے۔ لال مسجد کے ترجمان حافظ احتشام نے ایک ٹویٹ کے ذریعے مجھ پر "ختمِ نبوت کے باغیوں کا ترجمان" ہونے کا لیبل چپکا دیا۔ جب میں نے ان سے اس بہتان کی وجہ پوچھی تو جواب ملا: "آپ کو جواب دینا توہین سمجھتا ہوں۔" یہ صرف ایک ٹویٹ نہیں تھا، بلکہ میری اور میری فیملی کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا ایک کھلا پروانہ تھا۔
میرے ساتھ کیا ہوا؟:
• میری گاڑی کے شیشے توڑے گئے۔
• بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑیوں نے میرا پیچھا کیا اور مجھے ہراساں کیا۔
• اب این سی سی آئی (NCCIA) کے ذریعے مجھ پر نوٹسز کی بوچھاڑ کر دی گئی ہے۔
ریاست سے میرے چند سوالات
آج میں این سی سی آئی اے اور حکامِ بالا سے پوچھنا چاہتا ہوں:
1. ہراساں کرنے کا یہ انداز کیوں؟ میں پچھلے 25 سال سے گاؤں چھوڑ چکا ہوں اور 16 سال سے اسلام آباد میں مقیم ہوں، پھر میرے گاؤں کے پتے پر نوٹس بھیجنے کا کیا مقصد ہے؟ کیا میرے بوڑھے والدین اور خاندان کو خوفزدہ کر کے مجھ پر دباؤ ڈالنا مقصود ہے؟
2. یکطرفہ کارروائی کیوں؟ کیا یہ ادارہ حافظ احتشام جیسے لوگوں کو بھی نوٹس جاری کرے گا جنہوں نے مجھے نشانہ بنا کر میری جان کو حقیقی خطرے میں ڈالا؟
3. صحافت جرم ہے؟ کیا اب صرف متاثرہ خاندانوں کا موقف پیش کرنا ہی بغاوت قرار پائے گا؟
میرا عزم
میں حکومت اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر مجھے یا میرے اہل خانہ کو ذرہ برابر بھی نقصان پہنچا، تو اس کے ذمہ دار وہ تمام محرکین ہوں گے جو اس مہم کے پیچھے ہیں۔
لیکن یاد رکھیں! یہ نوٹسز، یہ پتھر اور یہ دھمکیاں نادر بلوچ کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ میرا ایمان اس قول پر پختہ ہے کہ: "جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں، اور جو باہر ہے وہ قبر میں نہیں۔" میں اپنا کام اور اپنے فرائض اسی بے باکی سے انجام دیتا رہوں گا، کیونکہ میں بکنے اور جھکنے کے لیے صحافت میں نہیں آیا تھا۔
ہاں اگر کسی کےپاس اپنے دعووں کی حقیقت میں کچھ کہنے کو ہے وہ میرے پلیٹ فارم پر آئے اور اپنا وقف پیش کرے۔ فیصلہ عوام کریں گے۔
