مستونگ کے دو نوجوان ایک ماہ سے زائد مبینہ پولیس حراست میں، اہلخانہ کی بازیابی کی اپیل

 

مستونگ( نامہ نگار)  پولیس گردی کا شکار مستونگ کے نوجوان سعید احمد اور محمد طارق ایک ماہ سات روز گزرنے کے باوجود مبینہ طور پر پولیس کی غیر قانونی حراست سے بازیاب نہ ہو سکے۔ اہلخانہ کے مطابق دونوں نوجوانوں کو مستونگ سے کوئٹہ جاتے ہوئے سونا خان کے قریب گاڑی سمیت حراست میں لیا گیا جبکہ اہلخانہ کو سڑک پر اتار دیا گیا۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی بازیابی کے لیے مختلف فورمز اور عدالتوں سے رجوع کیا گیا، تاہم واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ متاثرہ خاندان کے مطابق آئی جی پولیس اور ڈی آئی جی پولیس نے بھی اس واقعے پر چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے۔

اہلخانہ کا مزید کہنا ہے کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر بااثر پولیس افسران عدالتی کارروائی سے بچنے کی غرض سے نوجوانوں کو منظر عام پر لانے سے گریز کر رہے ہیں۔ خاندان نے وزیر اعلیٰ بلوچستان، محکمہ داخلہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں اور نوجوانوں کی فوری بازیابی میں کردار ادا کریں۔

متاثرہ خاندان نے خبردار کیا ہے کہ اگر نوجوانوں کو جلد بازیاب نہ کرایا گیا تو وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post