کوئٹہ ( نامہ نگار) بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6044 دن مکمل ہوگئے۔
وی بی ایم پی ترجمان کے مطابق آج احتجاج میں جبری لاپتہ غنی بلوچ اور فرید بلوچ کے لواحقین نے احتجاج میں شرکت کی، اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
جبری لاپتہ غنی بلوچ کے بھائی پروفیسر عبدالقیوم بادینی نے کہا کہ ان کے بھائی کو گزشتہ سال 27 مئی کو کوئٹہ سے کراچی جانے والی المنیر کوچ سے خضدار میں سیکورٹی فورسز نے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کر دیا، وہ غنی بلوچ کی بازیابی کے لیے آئینی اداروں اور متعلقہ فورمز سے مسلسل رجوع کرتے آرہے ہیں، تاہم تاحال کسی ادارے نے ملکی قوانین کے مطابق انصاف فراہم نہیں کیا، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔
جبری لاپتہ فرید کے بھائی نے کہا کہ کہ فرید ولد محمد اعظم کو گزشتہ سال 16 فروری کو ملکی اداروں کے اہلکاروں نے کوئٹہ ائیرپورٹ سے جبری لاپتہ کردیا، اس کے بعد ان کی گرفتاری کے حوالے سے میڈیا پر بیان جاری کیاگیا، لیکن انہیں آج تک منظر عام پر نہیں لایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن میں فرید کی جبری گمشدگی کے کیس کے سماعت دوران انہوں نے ملکی اداروں کے زمہ داروں سے پوچھا کہ فرید کی گرفتار کی بیان جاری ہونے کے باوجود انہیں اب تک منظر عام پر لایاگیا، اور نہ ہی خاندان کو معلومات فراہم کیا جارہا ہے، ملکی اداروں کے زمہ داروں نے کمیشن کے جج کے سامنے کہا کہ وہ فیک نیوز ہے۔ فرید کے بھائی کا کہنا ہے کہ اس حالات میں ان کا خاندان شدید ذہنی دباو کا شکار ہے، انہوں نے اعلی حکام سے اپیل کی کہ انہیں ان کے بھائی کے حوالے سے معلومات فراہم کیا جائے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر غنی بلوچ اور فرید بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد پر کوئی الزام ہے تو ان کو منظر عام پر لاکر عدالتوں میں پیش کیا جائے، اور اگر وہ بےقصور ہے تو ان کی رہائی کو یقینی بنانے میں اپنی کردار ادا کرکے ان کے خاندان کو زندگی بھر کی اذیت سے نجات دلائی جائے۔
