بلوچستان کے مرکزی شہر شال سمیت مختلف علاقوں سے 12 افراد جبری لاپتہ

 


کوئٹہ ( نامہ نگار) بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے علاقے کلی سوراب خان قمبرانی میں 4 جنوری کی رات تقریباً ایک بجے ایک گھر پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں نے چھاپہ مارا، جس کے دوران چار افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق شال قمبرانی ہاوس کلی سہراب خان سے ایف سی اور سی ٹی ڈی نے رات ایک بجے کے قریب چھاپہ مار کر نصیب اللہ ولد شہداد  ، دوبھائیوں عمر بلوچ اور داود بلوچ پسران  کو حراست میں لیکر نامعلوم 


جگہ منتقل کردیا  ۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سے ان چاروں افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار ہیں۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے بتایا کہ رات گئے گھر پر فورسز کے اہلکار آئے، تلاشی لی گئی اور مذکورہ افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ تو گرفتاری کی وجوہات بتائی گئیں اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ انہیں کہاں


منتقل کیا جا رہا ہے۔

ادھر ضلع کیچ سے اطلاعات ہیں پاکستانی فورسز نے مند کے علاقے گوبرد میں کل رات پاکستانی فورسز نے گھر گھر چھاپہ مارکر اس دوران بشیر ولد گل محمد کے گھر پر چھاپہ مارکر اس کے دو بیٹے سرور اور حاضر کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔
اسطرح تربت اسٹار پلس مارکیٹ سے آئی ایس آئی کارندوں نے3 جنوری کو  کریم جان ولد ملنگ نامی نوجوان کو


جبری لاپتہ کردیا ۔

علاوہ ازیں خضدار باغبانہ سے یکم جنوری کی صبح ایف سی نے شاہ زیب ولد محمد یوسف ،جمیل ولد محمد نور کو غیر قانوںی حراست میں لیکر بعد ازاں نامعلوم جگہ منتقل کردیا ۔

دریں اثناء بلوچ یکجہتی کمیٹی کے  ترجمان نے جاری بیان میں کہاہے کہ  رواں مہینے دو  جنوری کو کراچی بس ٹرمینل سے فورسز نے 54 سالہ جنگی خان ولد عبدالقادر،سکنہ جو ژان خاران کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ۔

پنجگور تسپ سے پاکستانی فورسز  فرنٹیئر کور ایف سی نے 57 سالہ ڈاکٹر  شبیر احمد ولد کریم داد کو یکم جنوری کی رات دس بجے انکے گھر واقعہ تسپ سے حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ۔
دوسری جانب کراچی منگھوپیر پرانا گولی مار کے رہائشی  24 سالہ حمدان ولد محمد علی نامی طالب علم کو فورسز نے گذشتہ سال 29 دسمبر کو دبئی گھوٹ گولی مار کراچی سے حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post