تربت ( ویب ڈیسک ) دشت مکسر کے رہائشی مقتول محبوب ولد بابو کے والد بابو اور بہنوں نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دشت مکسر سے تعلق رکھنے والے نوجوان محبوب ولد بابو کو 9 اکتوبر کی شام نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ تین دن بعد ایک مسلح تنظیم نے بیان جاری کرکے واقعے کی ذمہ داری قبول کی اور دعویٰ کیا کہ محبوب مسلح جھڑپ کے دوران مارا گیا۔ تنظیم کے مطابق ان کے اہلکار تنظیمی کام کے سلسلے میں علاقے سے گزر رہے تھے جب محبوب نے مبینہ طور پر ان پر فائرنگ کی جس کے بعد مقابلہ ہوا اور محبوب ہلاک ہوا جب کہ ان کا ایک ساتھی زخمی بھی ہوا۔
تاہم مقتول کے اہلِ خانہ نے تنظیم کے اس بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقابلہ ہونے کا دعویٰ بے بنیاد، غلط اور گمراہ کن ہے۔
واقعہ کے بعد ہم نے جائے وقوعہ کا خود معائنہ کیا جہاں نہ کسی جھڑپ کے آثار ملے، نہ گولیوں کے خول، نہ فائرنگ کے نشانات۔
ورثا کا کہنا تھا کہ اگر مقابلہ ہوا ہوتا تو شواہد ضرور موجود ہوتے، لیکن موقع پر ایسا کوئی ثبوت دستیاب نہیں۔
خاندان نے تنظیم کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ محبوب کا کوئی ساتھی زخمی ہوا تھا یا موقع سے موٹرسائیکل غائب ہوئی تھی۔ورثا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ساتھی زخمی ہوا تو اسے منظرِ عام پر کیوں نہیں لایا گیا، ان کے مطابق موٹرسائیکل کی کہانی گھڑی ہوئی ہے اور اس کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
لواحقین نے کہاکہ محبوب کسی سے دشمنی نہیں رکھتا تھا۔
وہ ایک امن پسند کاروباری نوجوان تھا۔ اس پر الزامات لگا کر قتل کرنا سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پریس کانفرنس چہلم کے بعد اس لیے کی کہ بلوچی روایات کے مطابق اس دوران پرسہ دیا جاتا ہے۔
اس عرصے میں انہوں نے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، شواہد اکٹھے کیے اور پھر میڈیا کے سامنے مؤقف رکھنا مناسب سمجھا۔
محبوب کے ورثا نے الزام لگایا کہ تنظیم اکثر اپنی عدالتوں کی بات کرتی ہے لیکن محبوب کو زندہ گرفتار کرکے ان عدالتوں میں کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ ہم بس انصاف چاہتے ہیں، نہ انتشار چاہتے ہیں اور نہ کسی تنظیم کے دشمن ہیں۔ لیکن الزام کی بنیاد پر قتل جنگ یا کسی آزادی کی تحریک کا اصول نہیں۔
لواحقین نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ محبوب کا کسی ڈیتھ اسکواڈ یا مخبری گروہ سے تعلق تھا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین اور انسانیت کے تقاضوں کے مطابق شہریوں کا تحفظ ضروری ہے اور کسی بے گناہ فرد کا قتل ناقابلِ قبول ہے۔
خاندان نے کہاکہ محبوب پہلے بھی ریاستی اداروں کے ہاتھوں دو مرتبہ لاپتہ رہ چکا تھا 16 جون 2016 سے 11 اپریل 2018 تک وہ حراست میں رہا۔ اگست 2022 میں اسے دوبارہ لاپتہ کیا گیا تھا۔
ورثا کے مطابق محبوب کا پہلے لاپتہ ہونا بھی اس کے قتل کے بعد لگائے گئے الزامات کے برعکس حقائق سامنے لاتا ہے۔
خاندان نے تنظیم سے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے دعوے درست ہیں تو ٹھوس شواہد، تصاویر یا ویڈیو پیش کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ صرف انصاف چاہتے ہیں اور اس واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
