کوئٹہ ( نامہ نگار ) منیجر ٹی بی کنٹرول پروگرام بلوچستان ڈاکٹر شیر افگن رئیسانی نے کہا ہے کہ امسال بلوچستان میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد 16 ہزار سے بڑھ کر 18 ہزار تک جا پہنچی ہے ان مریضوں کو بلوچستان کے طول و ارض میں موجود 250 سینٹروں میں مفت تشخیص و علاج کی سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ بلوچستان کی 12 جیلوں میں قید 2558 قیدیوں اور 371 جیل عملے کی اسکریننگ کی گئی جس میں ایچ آئی وی کے 5 مثبت کیسز، ہیپاٹائٹس بی کے 61 اور ہیپاٹائٹس سی کے 93 کیسز کی نشاندہی ہوئی جن کا ڈبلیو ایچ او کی گائیڈز لائن کے مطابق علاج جاری ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں ٹی بی کنٹرول پروگرام کی سالانہ رپورٹ جاری کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر عرفان احمد، حضرت بلال، ایس پی عبدالحمید سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر شیرافگن رئیسانی نے کہاکہ اس سال بلوچستان میں ٹی بی کے مریضوں کی جو تشخیص کی گئی ان کی تعداد 16 ہزار سے بڑھ کر 18 ہزار تک جا پہنچی ہے جس میں 2 ہزار اضافہ ہوا ہے ان مریضوں کو بلوچستان کے طول و ارض میں واقع ٹی بی کے 250 مراکز میں مفت تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کی جارہی ہے اور صوبے کے مختلف اضلاع میں 50 جدید ( Gene-Xpert ) مہیا کی گئی ہیں اور صوبے کے 20 اضلاع میں پی پی ایم پروگرام کے تحت 650 پرائیویٹ ڈاکٹروں کو ٹی بی کی تشخیص و علاج میں شامل کرکیا گیا ہے۔
جو مفت علاج یقینی بنا رہے ہیں، اس کے علاوہ بلوچستان میں 100 سے زائد جدید ایف ایم مائیکرو سکوپ دیئے گئے ہیں اور اور 30 اے آئی انٹیگریٹڈ ڈیجیٹل ایکسرے مشینیں دی گئیں اور مزاحمتی ٹی بی کی تشخیص اور علاج کے 3 مراکز کو بڑھا کر 11 کردیا گیا ہے اور اس کے علاوہ ٹی بی ایچ آئی وی مشترکہ علاج کے 5 سینٹر موجود ہیں۔ اور ایچ آئی وی کی اسکریننگ 74 سینٹرز میں جاری ہے۔
ٹی بی کنٹرول پروگرام اور مرسی کور کی ڈیجیٹل ایکسرے وین بھی صوبے میں ٹی بی کی تشخیص کیلئے مفت خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی جیلوں میں پہلی بار وسیع پیمانے پر ہیلتھ اسکریننگ کی گئی ہے ایک ماہ میں 12 جیلوں میں مجموعی طور پر 2930 قیدیوں کی اسکریننگ کی گئی جن میں 2558 قیدی اور 371 جیل کا عملہ شامل ہے۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا 139 افراد کا اے آئی ایکسرے کئے 104 افراد کو جینین ایکسپرٹ کے ذریعے ٹیسٹ کئے گئے جس میں 11 افراد میں ٹی بی کی تصدیق ہوئی انہوںنے بتایا کہ اس عمل میں ایچ آئی وی کی اسکریننگ کے دوران 8 مثبت کیسز سامنے آئے ہیپٹائٹس بی کے 61 اور ہیپاٹائٹس سی کے 93 کیسز کی تصدیق ہوئی۔
جیلوں میں مقید قیدیوں میں ہائی بلڈ پریشر، شوگر، موٹاپا کی وجہ سے امراض پائے گئے انہوں نے کہاکہ بلوچستان حکومت کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی ہدایت اور سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان مجیب الرحمن کی قیادت میں ایک موثر جامع حکمت عملی کے تحت عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنارہے ہیں اور پہلی بار ٹی بی کنٹرول پروگرام نے بلوچستان کی 12 جیلوں میں مقید قیدیوں عملے اور ان کے خاندانوں کو متعدی غیر متعدی بیماریوں کی معیاری تشخیص کے زریعے علاج کی سہولت فراہم کی ہے جو بہترین عمل ہیں۔
