دالبندین پاکستانی فوج کے ہاتھوں بہن اور بھائی جبری طور پر لاپتہ، عوام کا احتجاج

 



دالبندین ( بلوچستان ٹوڈے ) بلوچستان کے علاقے دالبندین کی ظہور کالونی میں گزشتہ روز پاکستانی فوج نے ایک بہن اور اسکی بھائی کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کردیا

واقع کے خلاف علاقہ مکین سراپا احتجاج بن کر شاہراہ کو بلاک کردیا ۔۔

مقامی ذرائع کے مطابق فورسز دونوں کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر کے تاحال غائب کر چکی ہیں۔

ذرائع نے لاپتہ ہونے والوں کی شناخت زبیر ولد محمد رحیم اور رحیمہ بنت محمد رحیم کے ناموں سے کی ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران متعدد گھروں کی تلاشی لی گئی، جبکہ اہلکاروں کی جانب سے لوگوں پر تشدد اور ہراسانی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ماہ جبین بلوچ اور ان کے بھائی یونس کو بھی پاکستانی فوج نےحراست میں لیے جانے کے بعد جبری لاپتہ کردیا تھا۔ بعد ازاں یونس کو رہا کر دیا گیا مگر  ماجبین بلوچ کئی ماہ گزرنے کے باوجود تاحال لاپتہ ہیں۔

اسی طرح نسرینہ بلوچ بھی حب چوکی میں پاکستانی فورسز کی جانب سے حراست میں لینے کے بعد تاحال لاپتہ ہیں، جن کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکاہے۔

بلوچستان میں بلوچ خواتین کی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے بڑھتے کیسز سے لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔

دوسری جانب رائے عامہ کا کہنا ہے کہ بلوچ خواتین کو فورسز اس سے قبل خفیہ طریقے سے جبری تشدد کا نشانہ بناکر ہراساں کرتے رہتے تھے مگر  خود کش حملوں کے بعد خواتین کو پاکستانی فورسز سرعام تشدد کا نشانہ بناکر جبری لاپتہ کرتے ہیں  چیک پوسٹوں پر بھی ہتھک آمیز رویہ میں تیزی آئی ہے ۔

 

Post a Comment

Previous Post Next Post