دیمک چاہے لکڑی میں ہو یا سیاست میں خطرناک ہیں تحریر سمیر جیئند بلوچ

 


دیمک دیکھنے میں انتاہی  نازک چھوٹا اور بے ضرر کیڑا دکھتا ہے، مگر وہ حقیقت میں انتہائی خطرناک حشرات میں سے ایک ہیں۔ اور اس کے حملے کا نشانہ اکثر وہی فرنیچر،پارٹی تنظیمیں ، بنتے ہیں، جو مکمل پکے نہیں ہوتے یعنی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔

لکڑ ہاروں کا کہنا ہے کہ ہر لکڑی کی کاٹنے کی ایک وقت اور پکنے کی مدت ہوتی ہے، اگر اس وقت کاٹ کر اس لکڑی کو کوئی بھی قیمتی چیز بناڈالیں، اس پر دیمک کبھی بھی وار نہیں کرسکتا۔

ٹھیک اسی طرح اگر ہم دیمکوں کے روز مرہ  زندگی کے کاموں ،پروگراموں ،سیاسی سماجی تنظیموں،سمیت زندگی کے ہر شعبہ میں جانچتے ہیں تو ،دیمک کی گھس جانے سے وہ پروگرام وڑ  جاتے  ہیں۔

اگر یہ دیمک کسی سیاسی پارٹی حکومت ،تنظیم چاہے پارلیمانی غیر پارلیمانی ،مسلح یا غیر مسلح تنظیم میں گھس جائیں اور  اوپری سطح پر پہنچ جائیں تو اس کا مطلب  وہ پارٹی تنظیمیں  پختہ نہیں تھے ، یہی وجہ ہے سیاسی دیمک ان میں اعتماد حاصل کرکے گھس کر اپنی پوزیشن سنبھال لیے۔  اور اب اس تنظیم پارٹی کا حال وہی کریں گے جو چکی میں غلہ ،گھیہوں اور دوسری جانب لکڑی کے انتہائی قیمتی فرنیچر کا اکثر ہوتاہے۔

سیاسی دیمکوں کا اکثر مشاہدہ کیا گیا ہے کہ وہ جب کسی سیاسی انقلابی حتی کہ وہ آزادی پسند پارٹیاں تنظیمیں کیوں نہ ہوں، اگر ان کی ناپختگی کی وجہ سے  اندر گھس گئے ہیں تو تحریک قوم بھگتا ہے، وہ تنظیمیں پارٹیاں، محنت کش کارکنان لیڈر،  تحریکیں، ملک، نئی آنے والی نسل ڈوب  گئے ہیں ،اگر کوئی قوم بدقسمتی سے کسی بدتہذیب پاکستان جیسے  قابض  کا غلام بن گیا ہے تو ،سیاسی دیمک آزادی کے نام پر سیاسی پارٹیوں اور عوام کے اندر آسانی سے  گھس کر اس تحریک کا ستیا ناس کرکے چھوڑ دیئے ہیں ، مگر  دیمکوں کے صحت  پر کوئی منفی فرق نہیں پڑا ہے،کیوں کہ ان کے پاس کھونے کیلے کچھ نہیں تھا،اگر بدقسمتی سےکہیں ایک دفعہ گھر کر گئے تو پھل پھول کر اس چیز کی فنا ہونے تک باہر نہیں آتےجگہ کر جاتے ہیں ، یہی وجہ ہے وہ ہمیشہ تروتازہ رہتے ہیں ،کیوں کہ وہ ایک تنظیم ، پارٹی کو ختم کرنے کے بعد دوسرے ،دوسرے کے بعد تیسرے، حتی کہ اپنے تنظیمی ساتھیوں کو بھی کھوکھلا کرکے رکھ دیتے ہیں۔  اگر آپ دیمکوں سے پوچھیں کہ آپ نے شروع میں کیوں جھوٹا  نعرہ دیاتھا کہ نواب سردار ،وڈیروں ،شاہی ٹولوں سے ہشیار رہیں ،مگر  اعتماد جیتنے کے بعد خود وڈیرہ ملک سردار سے زیادہ سخت رویہ اپنا کر قوم کو کھولا کر رہے ہیں  تو وہ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے آپ کو سونڈ دکھا نا شروع کردیں گے۔گویا تحریک کا پاپی وہ نہیں آپ ہیں۔

 دیمکوں کی سیاسی پس منظر مکاری دیکھیں،وہ اپنی جگہ بنانے کیلے شروع میں معصوم بن کر آتے ہیں ، آکر عوام کو انقلابی نعرہ دیکر اندر داخل ہوجاتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ملکر اپنے ملک پر تمام  قابضین  کا قبضہ خاتمہ کرکے دم لیں گے ،اور قابض  ریاستوں سے چھٹکارا حاصل کریں گے ، وہ یہ خوبصورت نعرہ لگاکر ہمدردی  حاصل کر نے میں کامیاب ہوجاہیں، مگر اختیار پیسہ ہاتھ میں آنے کے بعد وہ شروع کے نعرہ سے پیچھے ہٹ جاتےہیں ،یا اپنی پسند سے دستبردار ہوتے گئے ہیں،کوئی انگلی شہادت کی اٹھائے ، کوئی سوال کرے تو بڑا گناہ گار سوالی وہی  ٹھہرتا ہے جس نے انکی اقربا پروری، کرپشن وعدہ خلافی کی نشاندہی کی اور کہاکہ تحریک کیلے اب درد سر بن کر نعرہ سے دستبردار گئے ہو ، وہ یہ الفاظ سن کر  ٹیڑھی منہ بناکر بڑی بے شرمی سے کہہ کر پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں کہ ہماری طاقت فلحال کمزور ہے ، یہی وجہ ہے ایک سے نمٹنے کے بعد دوسرے پر وار کریں گے ،اگر کوئی پوچھے دیمک بھائی، لکڑی یا تحریک میں گھسنے سے پہلے یہی نعرہ دینا چاہئے تھا کہ ہم آہستہ آہستہ طاقت کو بڑھاکر مال بناکر دشمن پر آخر میں  بناکر وار کریں گے تو ٹھیک تھا ،یا اب چلو کسی وجہ سے خود ہتھیار پھینک دیئے ہیں، تو دوسروں کا راستہ روکنے اور  غنڈہ گردی کرنے کا حق کس نے دیا ہے جو آپ کی منافقت کی نشاندہی کرکے اصلاح کا راستہ دکھائیں انھیں قوم کا دشمن سمجھیں حالاں کہ دشمن خود ہیں ؟،

اپنی ذاتی مفادات کیلے کسی اور سیاسی تنظیم کو کیوں بلیک میل کرکے قومی تحریک کا راستہ روک رہے ہیں، جوکامریڈ  منزل پانے کیلے دیمک سے پاک تنظیم کا حصہ بننے جارہے ہیں انھیں جانیں دیں رکاوٹ کیوں بن رہے ہیں ،دوسری جانب ان تنظیموں کو بھی سوچنا چاہئے کہ ہمیں تحریک کو طاقت توانا کرنے کیلے اچھے منافقت سے پاک محنتی  دوستوں کی ضرورت ہے، وہ ایک لمحہ کیلے سوچیں اگر یہ دیمک خود  ملک وطن  کے مکمل نعرہ سے پھر کر اپنا پیٹ پوجا میں لگے ہوئے ہیں تو یقینا وہ کل ہمیں  بھی کھوکھلا کرکے چھوڑدیں گے۔ وہ کسی سے وفا نہیں کریں گے ۔

یہ ہماری آپ کی ذمہداری ہے کہ ہم مقدس تنظیموں سیاسی جماعتوں میں ایسے پختہ کار کامریڈوں کو ذمہداریاں سونپ کر ایسا  تھنک ٹینک بنائیں ،جس میں ہر فیلڈ کے سلجھے اور مہارت سے بھرپور ساتھی شامل ہوں ۔

صرف یہ کافی نہیں ہوگا کہ فلاں فلاں تنظیم کا سابقہ چیئرمین رہا ہے وکیل،ڈاکٹر ہے،ٹھیکدار  یا نام نہاد مڈلسٹ ہے وہی کافی ہیں ، دیکھنا یہ ہوگا کہ جس کا دماغ دیمک زدہ ہے اس سے کنارہ کش کریں ، اگر نہیں تو دیمکوں  سے آپ تحریک کو مستقبل میں ناکامی سے نہیں بچا سکیں گے ۔

تاریخ گواہ ہے ہر جگہ دیمکوں نے قوم تنظیموں کا ستیا ناس کرکے خود پلے بڑھے ہیں قوم ملک کا ہمیشہ گھاٹا کیاہے۔

یہ وہ وقت نہیں جب کوئی سوچے کہ مثبت قدم اٹھانے سے فلاں دیمک ناراض ہوگا ،اگر اس فارمولہ پر دنیا چلتی تو ٹرمپ نامی دیمک کی ہر ملک انڈیا کی طرح فیصلہ کی مخالفت نہیں کرتی ،اور ان سے چھٹکارا  پانے کیلے کوئی دوسرے ملک سے دوستی کا نہیں سوچتا ۔
یاد رکھیں دیمکوں کی طاقت  تبتک ہے جب تک وہ لکڑی یا تنظیموں کے اندر ہیں ایک دفعہ انھیں نکال باہر کیا گیا تو وہ کسی چھوٹے سے چھوٹے چڑیئے ،چوزے کا بھی آسانی سے شکار بن جاتے ہیں باہر ان کی حیثیت کچھ نہیں رہتا ۔ ہمیں آپ کو سلیم بن کر ظالم سے ظالم شہنشاہ( دیمک )کا مقابلہ کرکے انار کلی کے حق میں فیصلہ دینے پر مجبور کرنا ہوگا ۔چاہئے وہ ایک پل ہی کیوں نہ ہو ،بہادری سے ایک پل جینا بزدلی کے ایک سو سال جینے سے بہتر ہے ۔



Post a Comment

Previous Post Next Post