قلات ( مانیٹرنگ ڈیسک )قلات بلوچ یکجہتی کمیٹی قلات زون کے ترجمان نے جاری بیان میں کہاہے کہ
قلات انتظامیہ کی جانب سے قلات میں جاری احتجاجی دھرنے کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہاہے کہ لاپتہ افراد کے لواحقین اور بی وائی سی پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ مذکرات کی پاسداری نہیں کر رہے ہیں اور اُن کی وجہ سے روڈ بند ہے اور لوگوں کو رمضان المبارک کے مہینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انھوں نے کہاہے کہ بی وائی سی اور لواحقین کی جانب سے یہ واضع کرنا چاہتے ہیں کے بی وائی سی اور لواحقین کے ساتھ جو مذکرات ہوئے تھے انتظامیہ نے خود اُن کی پاسداری نہیں کی۔پہلے دن سے لواحقین اور بی وائی سی کے ساتھ جو معاہدہ طے پایا تھا وہ ان نکات پر تھے ۔
قلات سے 47 افراد کو غیر قانونی طور لاپتہ کیا گیا تھا اُن سب کو فلفور رہا کیا جائے۔
ایف سی کے اس غیر قانونی عمل کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
اور لاپتہ افراد میں سے کسی ایک کو بھی بازیاب نہیں کیا گیا تو جبری گمشدہ افراد کے لواحقین دھرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں ، اور بی وائی سی ہر لواحقین کے شانہ بشانہ کھڑا رہیگا۔
ترجمان نے کہاہے کہ قلات انتظامیہ اور لواحقین ، بی وائی سی اس بات پر متفق ہوئے لیکن نہ تمام لاپتہ افراد کو رہا کیا گیا نہ ایف سی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔
48 لاپتہ افراد میں سے45 کو اب تک ریا کیا جا چکا ہے لیکن 3 لاپتہ افراد اشفاق ،فراز اور کلیم اللہ اُن کو بازیاب کرنے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے کہاہے کہ ہم قلات انتظامیہ پر یہ واضع کرنے چاہتے ہیں کے جس رات قلات سے 47 افراد کو غیر قانونی طور پر اُن کے گھروں سے لاپتہ کیا گیا تھا اُن سب کو باعزت ریا کیا جائے جب تک آخری لاپتہ شخص کو بازیاب نہیں کیا جاتا لواحقین اور بی وائی سی اپنا دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ اور بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں لواحقین کے ساتھ دیں 8/3/2025 کو شال اور مستونگ میں بھی روڈ بند کیے جائیں گے۔عوام سے درخواست کرتے ہیں غیر ضروری سفر نہ کریں اور لواحقین کا حوصلہ بنیں۔
