لندن ( ویب ڈیسک ) برطانوی پولیس نے ایک افغان نژاد خاتون فریشتہ جمی کو افغانستان جا کر داعش خراسان میں شمولیت کی کوشش کے الزام میں گرفتار لیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق 36 سالہ فریشتہ نے اپنے چار بچوں کے ساتھ افغانستان جانے کے لیے بارہ سو برطانوی پاؤنڈ جمع کیے تھے اور سوشل میڈیا پر داعش کی حمایت میں پروپیگنڈا مواد پھیلا رہی تھیں۔
حکام نے عدالت کو بتایا کہ خاتون نے آن لائن اے کے 47 رائفل کو اسمبل کرنے کی تربیت بھی حاصل کی تھی اور خاتون اپنے چار بچوں جن کی عمر پانچ سے پندرہ سال کے درمیان ہے انھیں بھی اس منصوبے میں شامل کرنا چاہتی تھی۔
عدالت نے خاتون کو دہشت گردی کی کارروائیوں کی تیاری کے دو الزامات میں مجرم قرار دیا ہے، اور ان کے بچوں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی برطانیہ میں خواتین کی جانب سے داعش میں شمولیت کی کوششوں کے واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں ، 2016 میں 26 سالہ ترینہ شکیل کو اپنے کمسن بچے کے ساتھ شام جا کر داعش میں شمولیت اختیار کرنے پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔
اسی طرح، 2019 میں شمیمہ بیگم نامی برطانوی خاتون کی شہریت منسوخ کی گئی تھی، جو 15 سال کی عمر میں شام جا کر داعش میں شامل ہوئی تھیں اور بعد میں واپس آنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔