ایمنسٹی انٹرنیشنل کا بلوچ نسل کشی کیخلاف لانگ مارچ کے شرکاء پر پولیس تشدد و گرفتاریوں کی مذمت



ایمنسٹی انٹرنیشنل ساؤتھ ایشیاء آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمنسٹی ڈیرہ غازی خان میں تربت سے آنے والے لانگ مارچ کے شرکاء پر پولیس تشدد اور ڈی جی خان میں منتظمین کو گرفتار ی کی مذمت کرتی ہے-

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جاری بیان میں کہا ہے  گذشتہ ماہ پاکستانی پولیس “کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ” نے ایک جعلی مقابلے میں بالاچ سمیت چند پہلے سے زیر حراست بلوچ نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں قتل کردیا تھا جس کے خلاف تربت میں کئی روز تک دھرنا دینے کے بعد بالاچ کے لواحقین، لاپتہ افراد کے اہلخانہ اور بلوچ خواتین کی بڑی تعداد نے تربت سے  شالر پھر اسلام آباد تک لانگ مارچ منعقد کرنے کا اعلان کیا-

اس موقع پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اور غیر مشروط طور پر ان تمام لوگوں کے خلاف تمام ایف آئی آر کو ختم کریں جو صرف اظہار رائے کی آزادی کے اپنے حق کو استعمال کرنے کے الزام میں عائد کیے گئے ہیں اور تمام ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیا جائے-

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید کہا ہے کہ حکومت ان افراد کے اہلخانہ کو معاوضہ ادا کرے جو لاپتہ ہیں یا غیرقانونی طور حراست میں قتل کردئے گئے ہیں-

Post a Comment

Previous Post Next Post