شازیہ میروانی کی عدم بازیابی، میروانی قبائل نے خضدار کے مقام پر شاہراہ بند کردی ،والدہ نے سوشل میڈیا میں حقائق بیان کی



 خضدار سنی کٹائی کے مقام سے میروانی اقوام کے معتبرین نے مغوی لڑکی شازیہ میروانی( شہزادی) کی عدم بازیابی کیخلاف کراچی ،شال شاہراہ کو   بند کردیا ۔ ٹریفک معطل مسافر پریشان۔ 

میروانی اقوام کے متعبرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغوی لڑکی کی بازیابی تک روڈ غیر معینہ مدت تک بند رہے گا۔

آخری اطلاع تک بعد جمعیت علما اسلام کے مرکزی رہنما نوابزادہ میر ظفر اللہ خان زہری اور ایس ایس پی خضدار نے مشتعل مظاہرین سے کامیاب مذکرات کیے جس کے بعد شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔

آپ کو علم ہے اس سے قبل مغوی لڑکی کی والد نے سوشل میڈیا پر اپیل کیاتھا کہ انکی بیٹی کو  جمعیت علماءاسلام  خصدار کے رہنما یونس عزیز زہری نے اغوا کرکے یونس محمد شہی کے حوالے کیاتھا ، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یونس محمد شہی خضدار میں اغوا برائے تاوان  اور دیگر سماجی برائیوں میں بدنام ہیں ۔

 اس کے علاوہ گزشتہ روز میراوانی قبائل کے عمائدین نے خضدار پریس کلب  میں پرہجوم  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مغوی کو بازیاب کرنے کا مطالبہ کرکے مقامی انتظامیہ کو مجرموں کے خلاف کاروائی کرنے کا الٹی میٹم دیاتھا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر مغوی لڑکی کو چار سال بعد پیش کیاگیا ہے ۔ جن کا کہنا ہے کہ انھیں یونس  محمد شہی کے گھر میں رکھا گیاہے۔ 

دوسری جانب شازیہ کی والدہ  نے قرآن پاک سامنے رکھ کر  پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ میری بیٹی  شازیہ ( شہزادی ) اور ایک بیٹا میرے  شوہر شاہ محمد سے پیدا ہوئے ہیں ، جبکہ میرے سابق شوہر قربان سے تین بیٹے ہیں ۔ میری بیٹی کو زبردستی  پریس کانفرنس  کرواکر کہاگیا ہے کہ وہ قربان کی بیٹی ہے،  اور یونس محمد شہی کے ہاں خود گئیں ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے ۔حالاں کہ میری بیٹی بچپن سے یونس عزیز زہری کے گھر میں کام کرتی تھی اس دوران ان پر  بندوق چوری کا جھوٹا الزام لگاکر انھیں  نجی جیل میں قید کردیا گیا ،بعد ازاں وہ لاپتہ ہوئیں ۔ اب جبکہ عمائدین اور میڈیا نے اس مسئلے کو سامنے لایا تو انھیں  یونس محمد شہی  کے  گھر کا بہانہ بناکر منظر عام پر لا ئی گئی ہے ۔ تاکہ اصل ملزموں کو قانون کی گرفت سے بچایا جاسکے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post