کوئٹہ لانگ مارچ شہر میں داخل،شرکا نے سریاب روڈپر دھرنا دیدیا



کوئٹہ بلوچ جبری گمشدگیوں، جعلی مقابلوں میں قتل  اور لاپتہ افرادکی بازیابی کیلئے گذشتہ 19 دنوں سے جاری تحریک کی لانگ مارچ تمام ریاستی رکاوٹوں کو عبور کرتے اور تشددکا سامنے کرتے ہوئے بلوچستان کے ادرلحکومت شال  پہنچ کر سریاب روڈ پر دھرنا دیدیا جبکہ کل اسی مقام پر ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے ۔

علاقائی ذرائع کے مطابق دوسری جانب ریاستی مشینری نے لانگ مارچ کا راستہ روکنے کیلئے شال کا داخلہ راستہ سمیت ریڈ زون میں بڑی تعداد میں فورسز تعینات کر کے مکمل طور پر سیل کردیا ہے ۔

لانگ مارچ کے حوالے سے بلوچ یکجہتی کمیٹی نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ لانگ مارچ شلا پہنچ چکا ہے، آج رات سریاب مل روڑ کے مقام پر دھرنادیدیا گیا ہے اور کل دھرنے کے مقام سے ریلی نکالی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہےکہ تحریک کے 19ویں دن لانگ مارچ  منگچر پہنچنے پر  ریلی  نکالی ۔جس میں کثیر  تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور تحریک و لانگ مارچ سے اپنی بھرپور شرکت اور اظہارء ہمدردی دکھائی۔ جبکہ دھرنے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھائی،اس موقع پر منگچر میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے دھرنے سے خطاب کیا ، جس کے بعد مارچ مستونگ پہنچا جہاں ریلی  میں لوگ جوک درجوک شامل ہوئے بعد ازاں دھرنے میں   ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

انھوں نے بیان میں کہاہے  کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کی ایک بڑی تعداد نے دھرنے میں شرکت کی جبکہ مستونگ پہنچنے سے پہلے فورسز نے لانگ مارچ کو روکنے کی بھرپور کوشش کی اور انہیں آگے آنے نہیں دیا گیا لیکن مضبوط عزم کے ساتھ لانگ مارچ کے شرکا نے تمام پولیس چیک پوسٹوں کے رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے خود کو مستونگ پہنچایا جہاں شال سے جاتے کافلوں نے ایک بڑی تعداد میں مستونگ میں لانگ مارچ کا استقبال کیا۔

بی وائی سی کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہےکہ مستونگ میں ریلی اور دھرنے کے بعد لانگ مارچ کے شرکا کوئٹہ کی طرف روانہ ہوئے جہاں پہلے سے سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کر دیا گیا تاکہ قافلے کو روک سکیں اس طرح  فورسز نے لک پاس سے تھوڑا آگے ناکہ بندی کرکے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، خواتین و نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور شدید مزاحمت کے بعد لانگ مارچ کے شرکا نے راستہ عبور کرتے ہوئے سریاب پہنچے جہاں اس وقت لانگ مارچ کے شرکا دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ 


انھوں نے کہا ہے کہ تربت تا شال پہنچنے دوران راستے میں تقریبا 10 سے زائد مقامات پر قافلے کو روکنے کی کوشش کی گئی جبکہ 2 سے 3 مقامات پر مظاہرین پر شدید تشدد بھی کیا گیا ۔ ان تمام اقدامات کا مقصد پرامن طور پر مارچ کرنے والوں کو خوفزدہ کرنا تھا تاکہ لوگ بنیادی حقوق اور جبری گمشدگی و فیک انکاؤنٹر جیسے ریاستی شدت پسندانہ پالیسیوں پر خاموش رہیں۔ اس طرح کے اقدمات سے ریاست لوگوں کے دل میں مزید نفرت کا زہر پھیلا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق  آج رات بھر سریاب میں دھرنا دیا جائے گا ،جہاں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد خواتین کے ہمراہ دھرنے گاہ میں موجود ہیں ،جبکہ کل یہیں سریاب سے ریلی نکالی جائے گی۔ شال کے باشعور لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ سریاب مل میں پہنچ کر لاپتہ افراد کے لواحقین کا بھرپور ساتھ دیں اور انہیں احساس دیں کہ وہ اس سیاسی جدوجہد میں اکیلے نہیں بلکہ پوری قوم  ان کا ساتھ ہے۔ ریلی کل 1 بجے دھرنے سے شروع ہوگی جبکہ دھرنا جاری رہے گا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post