بلوچستان کے ضلع خاران وڈھ ایریا سے ایف سی کے چھاہے کے دوران جبری گمشدگی کے شکار غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے بیمار بچے عبدالقدیر یلانزئی اور صلاالدین یلانزئی تاحال بازیاب نہ سکے ۔
جبری گمشدگی کے شکار بچوں کے لواحقین نے میڈیا کو فریاد کرتے ہوئے بیان جاری کیا ہے کہ ایف سی کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار دونوں بچے ہیپاٹائٹس سی اور زہنی مریض ہیں جنہیں بلا جواز ریاستی فورس ایف سے نے جبری طور پر گمشدہ کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے ۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ عبدالقدیر یلانزئی جوکہ 13 سال کا بچہ ہے اور یپاٹائٹس سی کا مریض ہے ۔ جبکہ صلاالدین جوکہ 14 سال کا بچہ ہے عصابی کمزوری کا شکار ہے ۔ ان بچوں کو جبری و بلاجواز گمشدہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔
جبری گمشدگی کے بعد عبدالقدیر و صلاالدین کے والدین انتہائی ازیت ناک کرب سے گزررہے ہیں کہ ہمارے بیمار بچوں کو ایف سے کے اہلکار ہمارے سامنے تشدد کر کے اپنے ساتھ لے گئے ہیں اور وہ تاحال لاپتہ ہیں۔
انھوں نے کہاہے کہ بچوں کی جبری گمشدگی کے بعد جب لواحقین نے کیمپ جاکر انکی رہائی کا مطالبہ کیا تو فورسز کی طرف سے جھوٹی تَسلّیاں دیکر انھیں گھر واپس کردیا ۔
انہوں نے کہا ہے کہ چھاپے کے دوراں ایف سی نے نہ صرف ہمارے بچوں کو جبری گمشدہ کرکے اپنے ساتھ لے گئے بلکہ گھر کے اندر دوسرے سازو سمان موبائل فون ، سولر پلیٹوں سمیت تمام تر اشیا خوردنوش بھی لوٹ کر لئے گئے ہیں ۔
آپ جانتے ہیں بھوکلاہٹ کے شکار ریاستی فورس ایف سے و سی ٹی ڈی ایک طویل عرصے سے خاران سمیت پورے بلوچستان میں بلاجواز بچوں اور سیاسی اسیران کو جبری گمشدگی کا شکار بناتے وقت تمام گھریلو سازو سامان اشیاء خورنوش بھی لوٹ کر لے جاتے ہیں ۔
