آواران بلوچ نیشنل موومنٹ کے انسانی حقوق کے ادارہ نے سوشل میڈیا ایکس پر آواران میں ہونے والے پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے بنائے گئے ڈیتھ اسکوائڈ ہاتھوں نہتے شہریوں کی ھلاک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مختلف ایکس پر ٹیوٹ کرتے ہوئے کہاہے گزشتہ روز 8 نومبر کو بزداد کے علاقے بانڈ می میں پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈز کے اہلکاروں نے عبدالصمد کے گھر میں گھس کر اسے اغوا کرنے کی کوشش کی اور مزاحمت پر اس کی بیوی اور والد قاسم کو شدید زخمی کردیا۔ اس کے بعد عبدالصمد کو گولی مار کر قتل کر دیا ۔ دوسرے واقع میں اسی رات آواران کے پیراندر رسول بخش بازار میں ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں نے نور بخش ولد صاحبداد نامی شہری کو گھر سے اسلح کے زور پر اغوا کرکے تھوڑی دور جانے کے بعد اسے گولی مار کر قتل کر دیا اور فرار ہوگئے۔
انھوں نے ایک اور ایکس میں لکھا ہے کہ 19 اور 20 اکتوبر 2023 کو، گیشکور کے علاقے میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈز نے کولواہ، گشانگ، بزداد بانڈ می اور پیراندر کے قصبوں میں وحشیانہ قتل عام کیا۔ 19 اکتوبر کو گوشنگ میں ڈیتھ اسکواڈ نے دل مراد ولد محمد جان کے گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے دل مراد اور اس کی اہلیہ نور بی بی کو ھلاک کردیا۔
انھوں نے کہاہے کہ ریاست کے بنائے گئے مقامی ڈیتھ اسکواڈز کے ذریعہ کی گئی تشدد کی یہ قابل مذمت کارروائیاں، اجتماعی سزا کے ایک پریشان کن رجحان کو اجاگر کرتی ہیں، جہاں بے گناہ افراد کو انصاف یا انسانیت کی پرواہ کیے بغیر ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انھوں نے کہاہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں کا استعمال نہ صرف انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، بلکہ اس طرح کے گھناؤنے حرکات انسانی بنیادی حقوق کے احترام کے کلچر کو فروغ دینے میں رکاوٹ بننے کا باعث بن رہی ہیں ۔ لہذا ایسے جرائم کو روکنے کیلے ہر پلیٹ فارم پر بھرپور آواز اٹھانا چاہئے تاکہ عالمی ادارے جاگ کر پاکستانی فوج ، خفیہ اداروں پر دباو ڈال سکیں ۔
