بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5228 دن ہوگئے۔
اظہار یکجہتی کرنے والوں میں بی ایس او کے سیکریٹری جنرل صمند بلوچ، سیکریٹری اطلاعت شکور بلوچ اور سی سی ممبر کامریڈ اسرار بلوچ نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔
دوسری جانب وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے جاری بیان میں کہا ہےکہ انسانی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ظلم جبر کے خلاف اٹھی حق کی آواز کو قتل غارت ظلم و جبر سے نہ دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ختم کیا جا سکتا ہے ہمیشہ قابض ظالم نے مظلوم پرامن جہد کرنے والوں کے خلاف تشدد جبر کے ساتھ انہیں غلام رکہنے کے لئے اپنے تمام تر حربے اور وسائل کا استعمال کیا ہے یہی صورت حال بلوچ قوم کے ساتھ روزاول سے چلا آ رہا ہے۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا ہےکہ بلوچوں کے بعد اب پشتونوں کے علاقہ ہرنائی میں بھی کہیں مہینوں سے آپریشن ہو رہا ہے پشتونوں کو جبری اغوا اور انکے گھروں کو نظر آتش کر نے کا ایک بار آغاز کیاہے ۔ آئیں بلوچ پشتوں مل کر ان تمام غلامی کی زنجیروں کو توڑتےہوئے پرامن جدجہد کے اس کاروان کا حصہ بنیں پاکستانی قبض دلالوں کو آگے کرنے کا مطلب سرزمین اور شہیدوں کے لہو سے دغا ہے اور خد کو مزید غلامی کی دلدل میں دکھیلنا ہے سوچنے کا وقت کہ آج ہر بلوچ پشتون قابض ریاستی تشدد کا شکار ہے، کسی کا بھائی کسی کا بیٹا کسی کا والد شہید ہوا یا پر ریاستی عقوبت خانوں میں تشدد سہہ رہے ہیں نیز اج ہر بلوچ پشتون کو ریاستی تشدد ظلم و جبر کا سامنا ہے ایسی صورت میں ان لٹہیروں سے ہوشیار رہنا پڑھے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہر بلوچ کا فرض ہے کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں جبری لاپتہ فرزندوں کی لواحقین کی حال پرسی کریں کہ ان کے فرزند ایک عظیم قومی مقصد کے لئے آج پاکستانی خفیہ اداروں کے زندانوں میں تشدد سہہ رہے ہیں اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی عقوبت خانوں میں بلوچ فرزندوں اور ان کے خاندان والوں کے غم دکھ کو اپنا سمجھ کر پر امن جدجہد میں شامل ہو جائیں، کیوں کہ قومی یکجہتی اتفاق کسی بھی عمل کےاہم ستون ہوتے ہیں۔
