کیچ کے مرکزی شہر تربت سے گذشتہ رات لاپتہ ہونےوالے طاہر عزیز کے ہمراہ احمد نزیر نامی نوعمر نوجوان کو بھی فورسز نے تشدد کے بعد جبری لاپتہ کردیا ہے ۔
اہلخانہ کے مطابق دونوں کمسن لڑکے ہیں جنھیں گذشتہ رات بنا کسی جرم اور ایف آئی آر کے سیکیورٹی فورسز نے تربت کے علاقے آبسر سے ایک درزی کی دکان سے شدید تشدد کے بعد اٹھا کر جبری لاپتہ کر دیا ہے ، جبکہ اس سے تین دن قبل شعیب لیاقت کو بھی آبسر سے فورسز نے جبری طور پر اٹھا کر لاپتہ کیا کردیا ہے،
جس کے بعد وہ لاپتہ ہیں ۔
خضدار گریشہ سے 10 جنوری 2019 کو جبری لاپتہ ناصر علی ولد فقیر محمد کی والدہ نے جاری بیان میں کہاہے کہ ان کا بیٹا گذشتہ چار سال سے لاپتہ ہے جنھیں بغیر کسی جرم لاپتہ کردیا گیا ہے ۔
چار سال دوران شال اور خضدار متعدد بار ہم نے سیاسی سماجی اور معززین کے ہاں بارہا عرض کرچکی ہیں کہ وہ ہمارے بیٹےکی بازیابی کیلے آواز اٹھائیں مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی پائی ہے ۔
انھوں نے کہاہے یہاں غریب ہونا خود بڑا گناہ کبیرہ ہے ، جب کوئی غریب ہوا تو تو نہ حکام نہ ہی دیگر ادارے انھیں سننے کیلے تیار ہیں ۔
انھوں نے اپیل کی ہے کہ سیاسی سماجی اور انسانی حقوق کے ادارے ناصر علی کی بحفاظت بازیابی کیلے آواز اٹھائیں ۔
