سندھ کے مرکزی شہر کراچی میں پولیس نے بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ سے تعلق رکھنے والے 2 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایس ایس پی ملیر کا کہناہے کہ
گرفتار افراد ایران میں مقیم علی حسن سانگو نامی بی ایل ایف کے کمانڈر سے رابطے میں تھے اور انہوں نے چینی باشندوں پر حملے کے لیے منصوبہ بندی مکمل کرلی تھی۔
ایس ایس پی ملیر نے کہا کہ دونوں کارکنوں کو علی حسن سانگو نے 45 دستمی بم اور 80 ہزار روپے دیے تھے۔
انہوں نے کہاکہ گرفتار افراد نے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس موبائل پر دستی بم حملہ کیا تھا، دستی بم حملے کی ذمہ داری بی ایل ایف نے قبول کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد شاری بلوچ کی برسی پر کارروائی کی منصوبہ بندی کی تھی جنہیں دو روز بعد تربت نکلنا تھا اور 26 کو واپس آنا تھا۔
تاہم انھوں نے نام ظاہر نہیں کئے ہیں ۔
سیاسی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اکثر فورسز پہلے سے جبری لاپتہ افراد کو ضرورت پڑنے پر مسلح تنظیموں سے جوڑ کر ظاہر کرکے اپنی کالے کرتوت چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں ۔
دوسری جانب بلوچستان لبریشن فرنٹ کا موقف اس حوالے سے تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔
