بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتال کیمپ کو 5011 دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں شال سے سیاسی سماجی لوگ عطااللہ بلوچ، کیا بلوچ سمیت دیگر نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی
وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ کہ بلوچستان میں قوم دوست اور محب وطن بلوچ فرزندوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے اور ان میں سے بعض کو دوران حراست شہید کر کے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کی ظالمانہ ریاستی کاروائیاں تسلسل سے جاری ہیں ناعافیت اندیشہ پاکستانی فوج اور اس کے ذیلی ادارے ایف سی خفیہ ادارے سی ٹی ڈی اس یزیدی حکمت عملی کے ذریعے قوم دوست محب وطن بلوچ افرادی قوت کو ختم کرنے اور بلوچ قوم نے اندر خوف حراس پھیلانے کی احمقانہ منصوبے پر عمل پیرا ہیں تاکہ اس وحشیانہ حکمت عملی کے ذریعے بلوچ قومی پرامن جدوجہد کے برعکس مرتب ہو رہے ہیں، اس بدترین ریاستی دہشتگردی نے ایک جانب بلوچ عوام میں قومی پرامن جدوجہد کو کچل سکیں مگر ان کی ریاستی دہشتگردی نے ایک جانب بلوچ عوام میں قومی بقا کیلئے جدوجہد کے جذبہ شعور اور عملی شرکت کو تیز کر دیا ہے تو دوسری جانب بین الاقوامی اداروں اور رائے عافہ کو تیزی سے بلوچ فرزندوں اور متوجہ کر دیا ہے پاکستانی فوج ایف خفیہ اداروں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں جبری لاپتہ بلوچ فرزندوں اور عظیم شہدا کے مسخ لاشوں کے باعث بلوچ قومی مسلہ بین الاقوامی سطح پر ایک سنگین انسانی مسلہ اور حل طلب بین الاقوامی تنازعہ بن گیا ہے، ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر سالانہ رپورٹ کے اقسابات شاہع ہوئی ہیں اس رپورٹ میں صرف ایک سال میں 370 جبری لاپتہ بلوچ فرزندوں کو مسخ لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے اب تک پاکستانی سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں جبری لاپتہبلوچ فرزندوں کی تعداد ساٹھ ہزار کے لگ بھگ ہیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہاہی کمشنر کا ایک بیان ہے جس میں اس نے پاکستانی ریاستی سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگیوں اور تشدد سے لاشوں کے برآمدگیوں کو سنگین مسلہ قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا۔
