بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5010 دن ہوگئے۔
اظہار یکجہتی کرنے والوں میں پروگریسو یوتھ الائنس کے صدر کریم فرار، بلوچ وطن پارٹی کے ظفر بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی ۔
احتجاجی کیمپ میں 28 دسمبر 2010 کو کوئٹہ سے جبری لاپتہ سردار دارو خان ابابکی کے لواحقین سمیت مچھ بولان سے فیملیز موجود رہے،
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ اس وقت شعوری طور پر جزبے کے ساتھ پرامن جدجہد کی جنگ لڑتی ہے بلوچ قوم کا وہ عظیم فرزند جو بہادری کے ساتھ میدان میں دشمن کا مقابلہ کر رہی ہے موت سے انکا جنگ ہے مگر قوم کی خاطر میدان میں ہے بلوچستان کے حالات اس وقت مکمل جنگی حالات ہیں نعشیں گر رہی ہیں۔
بلوچ جبری اغوا ہو رہے ہیں بلوچ خواتین کی ریاستی عقوبت خانوں میں بے حرمتی ہو رہی ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے بلوچوں کو شہید کیا جا رہا ہے، بلوچ وسائل کی لوٹ مار ہو رہی ہے بلوچ گھروں پر مارٹر گولے اور بمباری کی جا رہی ہے بلوچ علاقوں پر حملہ کر کے بلوچ قوم کے فرزندوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے پاکستانی فوج بلوچوں کی قتل عام میں مصروف ہے بلوچ ننگ ناموس کی پامالی کی جا رہی ہے اس وقت کسی کا ہاتھ صاف نہیں ہے نہ کوئی معصوم ہے اور نہ ہی کوئی تماشائی اس وقت ہر بلوچ کو قومی پرامن جدجہد اور جبری لاپتہ فرزندوں کی بازیابی کے لئے اپنا حصہ ڈالنا چاہئے یہ نہ ہی کسی پر احسان ہے اور نہ کسی کے کہنے یا سمجانے کا انتظار کرے بس یہی اخری فیصلہ ہے، ہر ایک کو کچھ نہ کچھ کرنا ہے ان حالات میں ہر تماشائی کو بزدل یا غدار کرار دیا جا سکتا ہے۔
ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی پوری طاقت کے ساتھ بلوچ کو زیر کرنے کی دگ ودو میں ہے ان کا فوج اپنی طاقت اور گمنڈ بلوچ نوجوانوں کو جبری اغوا کرکے انسانیت سوز تشدد کے بعد گولیوں سے چلنی مسخ شدہ ویرانوں میں پھینک دیتے ہیں ان کا سول سوسائٹی بلوچ قومی استحصال میں ملوث نامنہاد دانشور قبضہ گیر کی ظلم اور جبر کو قانون کے دائرے میں لانے کی جدجہد کر رہے ہیں۔ نامنہاد دانشور منفی پروپگینڈوں کے ذریعے اصل حقائق کو چھپانے میں قبضہ کے ساتھ ساتھ کھڑا ہے۔
