خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے کراچی آرٹس کونسل سے پریس کلب تک وی بی ایم پی کی کال پر عورت مارچ نکالی گئی



کراچی  خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وائس فار بلوچ مسسنگ کی کال پر کراچی آرٹس کونسل سے پریس کلب تک ریلی کا انعقاد کیا گیا، ریلی کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی بھر پور حمایت حاصل تھی ، جبکہ عوامی ورکر پارٹی، بی ایس او سمیت دیگر تنظیموں نے ریلی کی حمایت کی اور اس میں شریک رہے۔


ریلی کے شرکاء سے  وائس فار بلوچ مسسنگ پرسنز کے سمی دین بلوچ نے  خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج اس دن کی مناسبت سے بلوچ خواتین سمیت دنیا کے تمام مظلوم اور محکوم خواتین کے حقوق کیلئے نکلے ہیں، آج بلوچ خواتین شدید ریاستی جبر کا شکار ہیں، اور انہوں نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا ۔


احتجاجی ریلی کے شرکا سے بی وائی سی کراچی کے آرگنائزر آمنہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ خواتین کو اس کے گھر کے مرد  سے نہیں بلکہ ریاستی جبر سے زیادہ خطرہ ہے۔


اس موقع پر جبری لاپتہ رحیم زہری کی والدہ نے خطاب  کر تے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیٹے، بہو اور نواسوں کے ساتھ جبری لاپتہ ہوئے تھے، جبکہ اس کا بیٹا آج تک بھی لاپتہ ہیں۔


لاپتہ  راشد حسين کی والدہ اور عبدالحميد زہری کی بیٹی سعیدہ حمید نے بھی خطاب کرکے اپنا دکھ درد بیان کیا۔


شرکا سے عورت مارچ والوں کی طرف سے ماھم، ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے شہزادی رائے،پی ٹی ایم کے شیر خان، اختر حسین ایڈووکیٹ اور بلوچستان سیول سوسائٹی کے گلزار دوست نے بھی خطاب کیا -


مارچ کے شرکا  کا کہنا تھا خواتین تو ہر سماج میں ظلم کا شکار ہے لیکن بلوچ خواتین زیادہ تر ریاستی جبر کے شکار ہیں، آج جو بلوچ خواتین سڑکوں پر نکل کے فریاد کرتے ہیں تو ان میں سے کسی کا شوہر، بھائی یا بیٹا ریاستی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ کیا گیا ہے، ایک فرد کی جبری گمشدگی سے اس کا پورا خاندان، اسکی والدہ، بیوی، بہن اور بیٹیاں سب اذیت سے گزر رہے ہوتے ہیں جو خواتین پر جبر اور ظل  کے زمرے میں آتا ہے۔


ریلی  سے خواتین وحضرات مقررین   نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خواتین کے اس عالمی دن کی مناسبت سے آج ہم اس ظلم اور جبر کے خلاف نکلے ہیں۔ جو صدیوں سے عورت پر ڈھایا جا رہا ہے۔ 


انھوں نے کہاکہ پاکستان میں آج بلوچ خواتین سب سے زیادہ ریاستی جبر اور استحصال کا شکار ہیں، اب بلوچ خواتین گھروں، چوراہوں، تعلیمی اداروں اور کام کے جگہوں  پر بھی محفوظ نہیں ہیں، سیکورٹی فورسز براہ راست بلوچ خواتین کو گھروں سے جبری طور پر غیر قانونی حراست میں لیکر ان پر ناجائز اور جھوٹے مقدمات لگا رہے ہیں، تو دوسری طرف ریاستی پشت پناہی میں سرداروں نے اپنے ڈیتھ اسکواڈ قائم کیے ہوئے ہیں۔  نجی جیلیں بنائی ہیں، جہاں بلوچ خواتین اور بچیوں کو جسمانی تشدد کا بنا کر قتل کیا جا رہا ہے۔


 انھوں نے کہاکہ  سرداروں  کو بھی سرکار نے طاقت بخشی ہے کہ وہ بلوچ خواتین کو یرغمال بنائیں، بلوچ خواتین پر  سرکار اور سردار دونوں استحصال کر رہے ہیں -


بلوچ خواتین کیلئے تعلیمی ادارے بھی غیر محفوظ ہیں، جہاں ایک طرف ان کو اساتذہ کی طرف سے ہراساں کیا جاتا ہے تو دوسری طرف ان کو حراسان کرنے کیلئے باتھ رومز میں کیمرے لگائے جاتے ہیں۔ بلوچستان میں خواتین کو حراساں کرنے سے بلوچ خواتین خود کشیاں کر رہے ہیں، ایسے متعدد کیسز رپورٹس ہوئے ہیں۔


انھوں نے کہاکہ خواتین کے حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے ہم خواتین پر دوہرے جبر کی شدید مخالفت کرتے ہیں، عزت اور غیرت کے نام پر خواتین کا قتل روکا جائے، مذہبی پابندیوں کے آڑ میں خواتین کو گھروں میں قید نا کیا جائے نا بلوچی روشن خیال کلچر کو مسخ کیا جائے۔ ہم اس مارچ کے توسط سے ہر اس جبر کے خلاف آواز اٹھانے نکلے ہیں جو خواتین سے اسکی آزادی اور جینے کا حق چھینتا ہے۔


شرکا نے مارچ میں بینر اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں بلوچ خواتین کو جینے کا حق دو، بلوچ خواتین پر ریاستی جبر اور جبری گمشدگی نامنظور اور ہم دنیا بھر کے تمام مظلوم خواتین سمیت بلوچ خواتین پر ہونے والے بربریت جبر تشدد اور استحصال کے خلاف نکلے ہیں -

 


ریلی کے شرکاء نے  گزشتہ ماہ شال سے فورسز کے ہاتھوں غیر قانونی حراست میں لیے ماھل بلوچ کی رہائی کا مطالبہ کیا اور خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والے عالمی اور ملکی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بلوچ خواتین پر  ڈھائے جانے والے ریاستی جبر کا نوٹس لیں اور سخت اقدام اٹھا لیں -

Post a Comment

Previous Post Next Post