نواب شاہ: مقامی ذرائع مطابق گذشتہ تین دنوں کے اندر نوابشاہ، میرپورخاص اور شاہ پور چاکر کے مختلف علاقوں سے کراچی و حیدرآباد سے اور 2017 سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتا کئے گئے اردو بولنے والے مہاجر مسنگ پرسنز کی نعشیں ملنا شروع ہوئی ہیں۔
وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ پاکستانی ریاست کی اس جارحانہ عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اور اقوامِ متحدہ سمیت تمام انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ سندھ میں ماروائے عدالت جبری گمشدگیوں اورمسنگ پرسنز کی مسخ شدہ نعشوں کا نوٹس لیا جائے۔
آپ کوعلم ہے مقبوضہ بلوچستان میں سانحہ زیارت میں پاکستانی فوج نے بلوچستان سے سالوں سے جبری لاپتہ افراد کو جعلی مقابلہ میں قتل کردیاتھا ، جس کے خلاف لاپتہ افراد کے لواحقین نے شال ریڈ زون میں پچاس دنوں تک دھرنا دیکر احتجاج کر رہے تھے، جن کا مطالبہ تھا انکے جبری لاپتہ پیاروں کو جعلی مقابلوں میں ھلاک کرنے کا سلسلہ بند کیاجائے ۔
جس کے بعد پاکستانی نام نہاد وزرا ء نے لواحقین کو جھوٹی تسلی دینے بعد احتجاج ختم کروایا تھا کہ انکے پیاروں کو جعلی مقابلوں میں نہیں ماراجائے گا ۔ اور انھیں تین مہینوں کے اندر بازیاب کیاجائے گا ۔
