بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے طلباء نے ڈیرہ غازی خان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ پچھلے دنوں طلباء طالبات کی ایک وفد نے ڈیرہ غازی خان جامعہ کی انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کی اور فیس معافی کےلیے طلباء و طالبات کی طرف سے درخواست جمع کرادی ۔ اس وقت جامعہ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی کہ وہ سیلاب زدہ طالبعلموں کے فیس معافی کےلیے اقدامات کریں گے۔ لیکن جب دوسرے دن تنظیم کی جانب سے انتظامیہ کو اپروچ کیا گیا تو انہوں نے صاف الفاظ میں انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی صورت ان علاقوں کے طالبعلموں کی فیسیں معاف نہیں کرسکتے۔
طلباء نے کہاکہ غازی یونیورسٹی جو کہ ڈیرہ غازیخان ڈویژن کے 50 لاکھ سے زائد آبادی کا واحد اعلی تعلیمی ادارہ ہے ،ان کی جانب سے اس طرح کا رویہ افسوسناک ہے۔ ان حالات میں جامعہ کو سیلاب زدہ طالبعلموں کی فیسیں معاف کرکے لوگوں کو اس آفت سے نکلنے میں مدد کرنی چاہئے تھی لیکن انتظامیہ کی جانب سے غیر انسانی رویہ اپنایا جا رہا یے جو انتہائی افسوس ناک عمل ہے ۔
طلباء نے کہاکہ پریس کانفرنس کے توسط سے ہم حکومت وقت اور غازی یونیورسٹی سمیت ملک بھر کے تمام جامعات سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ڈیرہ غازیخان ڈویژن سمیت بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے تمام طالبعلموں کی سیمیسٹر فیسز معاف کرکے اس انسانی بحران سے نکلنے میں لوگوں کی مدد کریں۔ تاکہ ان علاقوں کے متاثرہ اور زبوں حالی کا شکار طالبعلم سیلاب کی تباہ کاریوں کے سبب اپنی تعلیمی سلسلے کو ترک کرنے پر مجبور نہ ہوں ۔
انھوں نے کہاکہ غازی یونیورسٹی کی جانب سے اگر ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو ہم بطور طلباء تنظیم تمام تر پرامن احتجاج کے حق محفوظ رکھتے ہیں ۔
طلباء نے کہاکہ اس وقت ڈیرہ غازیخان سمیت پورے ملک کا ایک تہائی حصہ سیلاب میں ڈوب ہوا ہے ،جس سے کروڑوں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔سیلاب نے جہاں لوگوں کو بے گھر کیا ہے وہیں لاکھوں لوگ معاشی تنگدستی کے سبب فاقوں پر مجبور ہیں۔ ان حالات میں غازی یونیورسٹی کی جانب سے فیسیں وصول کرنا ان علاقوں کے طالبعلم کےلیے ایک تباہ کن اقدام ہوگا جس سے ہزاروں طالبعلموں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے۔
طلباء نے پریس کانفرنس دوران کہاکہ چھلے ایک مہینے سے جاری بارشوں کے باعث سیلاب جیسے قدرتی آفت نے بلوچستان اور سندھ کے بیشتر اضلاع سمیت ڈیرہ غازی خان ڈویژن کو مکمل طور پر متاثر کیا ہے۔ تمام تر املاک کا سیلاب میں بہہ جانے کے سبب عوام معاشی حوالے سے انتہائی خستہ حالی کا شکار ہو چکے ہیں ۔
لہذا اس طرح کے سنگین حالات کا ادراک رکھتے ہوئے مذکورہ علاقوں کے طالبعلموں کی فیس مکمل طور پر معاف کئے جائیں ۔
انھوں نے کہاکہ اس وقت
ڈیرہ غازیخان ، تونسہ شریف ، راجن پور اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع اس وقت شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہیں جس سے لاکھوں کی تعداد میں بلوچ عوام متاثر ہیں۔ شدید بارشوں اور سیلاب نے لوگوں کے گھروں کو مسمار کرکے انہیں بے گھر کر دیا ہے۔ لوگوں کے ضروری املاک سیلاب میں بہہ گئیں اور تیار فصلیں تباہ ہونے سے لاکھوں لوگ معاشی بد حالی کا شکار ہوگئے ہیں۔ سیلاب کے اس قدرتی آفت نے لوگوں کو بے گھر کرنے کے ساتھ سینکڑوں افراد کو لقمہ اجل بنا دیا ہے ، معاشی تنگدستی کے سبب اس وقت عوام کے پاس نہ صرف اشیا خورد و نوش کی کمی ہے بلکہ زندگی گزارنے کےلیے چھت تک میسر نہیں ہے۔
ان علاقوں میں شدید بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلابی ریلوں نے ایک انسانی بحران کو جنم دیا ہے جس سے نکلنا خطے کی عوام کےلیے نہایت ہی مشکل ہوگا۔
انھوں نے کہاکہ ڈیرہ جات اور بلوچستان کے پہاڑی و دیہی علاقوں سے طالبعلم بڑی تگ و دو کے بعد یونیورسٹیوں تک پہنچ پاتے ہیں ، جو کہ بمشکل اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اس وقت جب ہر طرف سیلاب نے تباہی مچا ئی ہوئی ہے اور لاکھوں لوگ معاشی حوالے سے اجڑگئے ہیں۔ وہیں ان علاقوں کے طالبعلموں کےلیے بھاری بھر کم تعلیمی اخراجات کو پورا کرکے تعلیمی تسلسل کو جاری رکھنا نہایت ہی مشکل ہے ۔
انھوں نے کہاکہ مذکورہ علاقوں میں اس سے پہلے بھی خواندگی کی شرح نہایت ہی کم رہاہے اور نہایت ہی محدود تعداد میں طلباء و طالبات بنیادی تعلیم کے بعد اعلی تعلیم کے لیے جامعات کا رخ کرتے تھے ، لیکن اس طرح کے حالات میں معاشی بدحالی کے باعث ہزاروں طالبعلموں کے تعلیمی تسلسل ضائع ہونے کا خدشہ نہایت ہی تشویشناک ہے
