شال جبری لاپتہ افراد کے بازیابی کیلے کیمپ جاری ، خضدار سے لاپتہ ڈاکٹر بازیاب ،تین لاپتہ افراد کے کیس جمع ، وی بی ایم پی

جبری لاپتہ افراد شہداء کےبھوک ہڑتالی کیمپ کو 4759 دن ہوگئے ہیں ۔ اظہاریکجتی کرنے والوں میں نیشنل پارٹی کے سی سی ممبر نیاز لانگو نوشکی سے سیاسی سماجی کارکنان فیض امیر بلوچ نزیر احمد بلوچ لیاقت بلوچ نے کیمپ آکر اظہاریکجتی کی۔ وی بی ایم پی کی وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ اقوام متحدہ میں جبری گمشدگیوں کے حوالے سے متعدد قراردادیں پاس ہو چکے ہیں ، جن کی رو سے جبری گمشدگیوں کی کوئی بھی کاروائی انسانی حقوق اقدار اور قوانین کے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے. جبری گمشدگیاں اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی اور انسانی حقوق کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان دنیا کو بلیک میل کرکے سفاکیت سے بلوچ نسل کشی میں مصروف ہے، بلوچستان پاکستانی خفیہ ادارے آئے روز بلوچ فرزندوں کو جبری گمشدگی اور دوران حراست انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنا نے کے بعد شہید کرکے مسخ شدہ لاشیں پھینکنے میں مصروف ہیں ،2001 سے لیکر اب تک ہزاروں بلوچ فرزندوں کو پاکستانی ادارے بھرے بازار گھروں مسافر گاڑیوں اور تعلیمی اداروں سے اٹھا اٹھا کر غاہب کرچکے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد خواتین بچوں پیران سال بزرگوں کی بھی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ان حالات میں اقوام متحدہ کا کمیشن برائے انسانی حقوق کا ادارہ بھی پاکستان کے خلاف کوئی عملی قدم اٹھانے سے قاصر ہو کر صرف تشویش اور افسوس کے اظہار تک محدود ہے ، ماما نے کہاکہ جبری لاپتہ بلوچ فرزندوں کے لواحقین کی 14 سالوں سے جاری بھوک ہڑتالی کیمپ کو بھی درخود اعتنا نہیں سمجھا جارہا ہے۔ اگر اقوام متحدہ کو حقیقت کاپتہ لگانا اور تہہ تک پہنچنا ہے تو وہ پاکستانی حکومت کے پروپیگنڑوں پر کان نہ دھرتے ہوئے خود آکر براہ راست لاپتہ افراد کے لواحقین اور بلوچ قوم کے حقیقی نمائندوں سے ملاقات کرے۔ انھوں نے کہاکہ اگر اب بھی اقوام متحد ہ نے ماضی کی طرح آنکھیں بند کرتے ہوئے پاکستانی کارندوں کی جانب سے فراہم کئے گئے غلط معلومات پر بھروسہ کرکے پاکستان کے خلاف کوئی عملی قدم نہیں اٹھا یا تو اس سے حوصلہ پاکر پاکستان اور مزید بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مزید شدت لائے گا ، جس سے ایک بہت بڑا انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور جس کی تمام تر ذمہ داری اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر عائد ہوگی۔ دریں اثناء وی بی ایم نے اپنے جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ نبی داد ولد محمد قاسم سکنہ چاغی، مشتاق احمد کرد ولد عبدالرشید سکنہ مچھ اور مزار خان ولد نورالدین سکنہ قلات کے جبری گمشدگی کی تفصیلات اہلخانہ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کو فراہم کردیئے ہیں ، تنظیم نےانہیں یقین دلایا کہ وہ ان کیسز کو حکومت، لاپتہ افراد کمیشن اور اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری گمشدگی کو فراہم کرنےکے ساتھ انکی بازیابی کیلیےہرفوررآوازبلندکریگی۔ ‏علاوہ ازیں انھوں نے یہ بیان بھی جاری کیاہے کہ رواں ماہ کی چار تاریخ کو گریشہ خضدار سے لاپتہ ڈاکٹر کریم بخش بازیاب ہوگئے ہیں ۔ مگر انکے ساتھ لاپتہ ہونے والے بزرگ شئے محمد اپنے چار نوجوان بیٹو ، خیر بخش،نعیم ،داد کریم اور مقصود تاحال لاپتہ ہیں

Post a Comment

Previous Post Next Post