پاکستان کو شکست، سری لنکا چھٹی مرتبہ ایشین چیمپئن بن گیا

سری لنکا نے پاکستان کو تیسری بار ایشیا کپ کے فائنل میں شکست دی ہے، سری لنکن ٹیم اس سیقبل 1986 اور 2014 میں بھی پاکستان کو فائنل میں ہراچکی ہے۔ سری لنکا کے 171 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹرز مقررہ 20 اوورز میں147رنز بناسکے، محمد رضوان 49 گیندوں پر 55 رنز بناکر نمایاں رہے۔ اس سے قبل 58 کے مجموعی اسکور پر آدھی ٹیم کے پویلین لوٹنے کے بعد بھانوکا راجاپکسا کی شاندار بیٹنگ کی بدولت سری لنکا نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں پر170 رنز بنائے۔راجاپکسا 45 گیندوں پر 71 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر سری لنکا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ ہسارانگا اور بھانوکا راجاپکسے نے سری لنکا کو 36 گیندوں پر 58 رنز کی عمدہ پارٹنرشپ فراہم کرکے اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالا۔ ہسارانگا ڈی سلوا 116 کے مجموعے پر حارث رؤف کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، انہوں نے 21 گیندوں پر 36 رنز کی اننگز کھیلی۔ سری لنکا کی جانب سے بھانوکا راجاپکسے کا لاٹھی چارج جاری رہا، انہوں نے 18ویں اوور میں نہ صرف اپنی نصف سنچری مکمل کی بلکہ اپنی ٹیم کو بڑے ٹوٹل کے قریب لا کھڑا کیا۔ ساتویں وکٹ پر چانسز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھانوکا راجا پکسے نے 71 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی اور ٹیم کو 170 کے مجموعے تک پہنچایا۔ ساتویں وکٹ پر انہوں نے کرونارتنے کے ساتھ 31 گیندوں پر 54 رنز جوڑے، کرونارتنے 14 گیندوں پر 14 رنز بنا کر ناقابلِ شکست رہے۔ سری لنکا کے بھانوکا راجا پسکے کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جبکہ ونندو ہسارانگا ڈی سلوا ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ سری لنکا کی ٹیم کپتان دسن شناکا،کوشل مینڈس، پاتھم نسانکا، دھننجیا ڈی سلوا، دنوشکا گوناتھیلاکا، بھانوکا راجاپکسے، چمیکا کرونارتنے، ونندو ہسارانگا ڈی سلوا، مہیش تھیکشنا، پراموڈ مدوشن اور دلشن مدھوشنکا پر مشتمل تھے۔ ٹورنامنٹ میں فائنلسٹس کا سفر: خیال رہے کہ سری لنکا کی ٹیم کا فائنل میں پہنچنے کا سفر دلچسپ رہا جہاں انھیں ایونٹ کے پہلے ہی میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سری لنکا کو پہلے مرحلے کے پہلے ہی میچ میں اسے افغانستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم اس کے بعد شناکا الیون نے بنگلہ دیش کو شکست دی اور دوسرے مرحلے میں پہنچے۔ سپر فور مرحلے میں سری لنکا نے مزید بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا اور افغانستان سے بدلہ لینے کے بعد بھارت کو بھی شکست دی اور فائنل کے لیے کوالیفائی کیا جبکہ سپر فور کے ڈیڈ ربر میچ میں یہ پاکستان کے خلاف بھی کامیاب رہا۔ پاکستان کی اننگز سری لنکا کے 171 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان ٹیم کا آغاز اچھا نہ رہا، کپتان بابر اعظم ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے، وہ صرف 8 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے جبکہ نئے آنے والے بیٹر فخر زمان پہلی گیند پر صفر پر پویلین لوٹے۔ 22 رنز پر 2 وکٹیں گرنے کے بعد افتخار احمد اور محمد رضوان کے درمیان 71 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی لیکن پھر افتخار 31 گیندوں پر 32 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ پاکستان کی چوتھی وکٹ 102 رنز پر گری، محمد نواز 6 رنز بناکر ٹیم کا ساتھ چھوڑ گئے، اس کے بعد میڈل آرڈر ریت کی دیوار ثابت ہوا، خوشدل شاہ 2، محمد آصف صفر اور شاداب خان 8 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔محمد رضوان نے 49 گیندوں پر55 رنز بنائے پر وہ بھی پاکستان کو کامیابی نہ دلواسکے اور پوری ٹیم 20 اوورز میں 147 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔  

Post a Comment

Previous Post Next Post