جامعہ بلوچستان،مالی بحران کے ذمہ داران کا آڈٹ کیا جائے، بی ایس او

شال بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بی ایس او یونیورسٹی آف بلوچستان کے یونٹ سیکرٹری محمد ایوب نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان دن بدن تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔معیاری ریسرچ اور تعلیمی بہتری کے بجائے مالی بحران جنم لے چکا ہے۔ انھوں نے کہاکہ تعلیمی ادارے معاشرے میں معیاری تعلیم کی فروغ اور طلباء کو مواقع فراہم کرتی ہیں۔ریسرچ ورک سمیت انتظامی امور کی بہتری کیلئے یہ امر ضروری ہے کہ میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر انتظامی عہدوں پر لوگوں کو تعینات کیا جائے، لیکن جامعہ بلوچستان میں ایک نااہل شخص کو سفارشی بنیادوں پر انتظامی سربراہ مقرر کیا گیا جن کا تعلیمی بہتری،طلبا ،اساتذہ اور ملازمین سے کوسوں دور کا تعلق نہیں ہے۔ صرف تنخواہ اور مراعات حاصل کرکے جامعہ کو مالی اور انتظامی بدنظمی کا شکار بنادیا گیا ہے۔ یونٹ سیکٹری نے کہاکہ ایک طرف جامعہ کے اساتذہ اور ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں جبکہ دوسری جانب وائس چانسلر کی شاہ خرچیوں اور دیگر دفتری اخراجات پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ سیکورٹی کے مد میں بجٹ کو خرد برد کیا جارہا ہے۔ ایک ناقص واٹر پلانٹ کے نام پر کروڈوں روپے خرچ کرکے صرف دیوار کھڑی کردی گئی ہے دوسری طرف ہاسٹل اور ڈیپارٹمنٹس میں طلباء پانی کا واٹر کولر تک نہیں ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وائس چانسلر کی کرسی پر براجمان شخص ڈکٹیٹرکے طور پر ادارے کو چلارہا ہے۔انتظامی معاملات اور پالیسی سازی میں صرف شخصی فیصلے لیے جاتے ہیں۔ وائس چانسلر صاحب کی ڈکٹیٹرشپ اور غرور کا واضح مثال یہ ہے کہ گزشتہ دنوں نومنتخب ایمپلائز ایسوسی ایشن کے ذمہ داران نے انہیں خط لکھ کر تعارفی اجلاس کرنے کی درخواست کی ہے تو انہوں نے ملازمین کےساتھ ملنے ہی سے انکار کردیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان کا مالی بحران خود ساختہ ہے۔ انتظامی اور معاشی بحران پر ذمہ داران کو شفاف آڈٹ کرکے نیب سے تحقیات کرائی جائے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post