مشکے پاکستانی فورسز اور ڈیتھ اسکوائڈ کے کارندوں کا آپریشن جاری اسماعیل نامی شخص کے گھر پر دھاوا خواتین بچوں کو زدوکوب کیاگیا

آواران تحصیل مشکے کے مغربی پہاڑی علاقوں کُلان، گّرو، راھت، زُنگ، اسپیت سمیت داربند میں فوجی آپریشن کا آغاز کرکے فورسز مقامی ڈیتھ اسکوائڈ کے کارندوں کے ہمراہ بڑی تعداد میں داخل ہوگئے ہیں ۔ جہاں فوجی درندگی جاری ہے ۔ دوسری جانب اطلاع ہے کہ جیبری میں اسماعیل نامی شخص کے خاندان والوں کے گھر جوکہ فوجی عقوبت خانہ ہے پر فورسز اور مقامی ڈیتھ اسکوائڈ کے کارندوں نے دھاوا بول کر پانچ سال سے محصور خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے ۔ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے مبینہ طورپر ایک لاکھ روپے اور موبائل بھی چھین لئے ہیں ۔ آپ کو علم ہے محمد اسماعیل ولد علی محمد بنیادی طورپر مشکے بمبکان کے رہائشی ہیں ، جن کے خاندان والوں کو فورسز نے بمبکان سے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ زبردستی اٹھاکر جیبری لاکر کیمپ کے نذدیک واقع کواٹروں میں فوجی محاصرے میں رہنے کا حکم دیا تھا ۔ تب سے وہ یہاں محصور ہیں ان پر پابندی لگائی گئی ہے کہ جیبری جوکہ ڈیتھ اسکوائڈ کے سرغنہ علی حیدر محمد حسنی کا آبائی شہر ہے ، علاوہ وہ کہیں بھی اپنی مرضی منشاء نہیں جاسکتے جب تک اسماعیل آکر سرینڈر نہیں کرتے ۔ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ مزکورہ خاندان پر آئے روز فورسز اور ڈیتھ اسکوائڈ کے کارندے تشدد کرکے انھیں حراساں کرکے غلام رکھا ہواہے ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post