شال :بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4672 دن ہوگئے.
اظہارِ یکجہتی کرنے والوں میں حسن مینگل ایڈوکیٹ، رضا ایڈووکیٹ سمیت مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نی شرکت کی یکجہتی کا اظہار کیا.
اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ہماری تنظیم بلوچستان میں جاری ریاستی ظلم اور بربریت، بلوچ نسل کشی اور جبری گمشدگیوں پر بارہا ملکی اور عالمی سطح پر آواز بلند کرتا آرہا ہے۔
یو این اور متعلقہ اداروں کے ذیلی فورمز پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر لکھ چکے ہیں۔ لکن ریاستی دہشت گردی کے روک تھام میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے -
انہوں نے کہا کہ جب تک وفاقی حکومت اور جبری گمشدگیوں پر قائم کردہ اسکے کمیٹی ملکی اداروں کو شامل تفتیش یا فریق نہیں بنائیں گے، جبری گمشدگیوں کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔
انھونے کہا کہ "ملکی ادارے ملوث نہیں ہیں" والا بیانیہ وفاقی اداروں ریاستی غیر سنجیدگی کا واضح ثبوت ہے، ہمارے پاس جبری گمشدگیوں کے واقعات میں ایسے متعدد ٹھوس ثبوت آن دی ریکارڈ موجود ہیں ،جہاں پاکستانی آرمی اور إنتل خفیہ ادارے لوگوں کی جبری گمشدگیوں میں براہ راست ملوث پائے گئے ہیں۔
وفاقی سطح پر بھی ایسے متعدد کیسز آن دی ریکارڈ ہیں کہ کورٹس نے اداروں سے لوگوں کی بازیابی کے احکامات جاری کئے ہیں -
انہوں نے مزید کہا کہ جبری گمشدگیوں پر ملک کے مقتدرہ اداروں اور انکے سربراہان کو لاپتہ افراد کے لواحقین اور عدالت عالیہ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا.
