بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی چیئرمین زبیر بلوچ، وائس چیئرمین بوہیر صالح بلوچ، صوبائی صدر بابل ملک بلوچ جونیئر جوائنٹ سیکریٹری وکرم بلوچ صوبائی جنرل سیکرٹری عابد عمر بلوچ اور رکن مرکزی کمیٹی نوید تاج نے تربت یونیورسٹی کا تنظیمی دورہ کیا جنکے ہمراہ زونل صدر باہوٹ چنگیز، نائب صدر زبیر برکت، فاروق شمبے، جہانزیب اقبال و دیگر دوست موجود تھے ۔
پروگرام سے مرکزی چیئرمین زبیر بلوچ اور وائس چیئرمین بوہیر صالح ایڈوکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے قلم و شعور پر بندوق کا پہرا لگا کر یہ ثابت کیا کہ ادارے کچھ بلوچ دشمن قوتوں کے قبضہ و تصرف میں ہے اور ادارے مین کرپشن، اقرباپروری، پسند و ناپسند عروج پر ہے جو انکے لیئے باعث شرم ہے۔
انھوں نے کہاکہ بلوچستان کے پرامن فرزندوں کو ڈرانا چاہتے ہیں جنکی تاریخ عظیم شہدا کے قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور ہم واضع کرنا چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی کسی کی ذاتی جاگیر نہیں جن سے ہم اجازت لیکر تعلیمی ادارے میں داخل ہوجائیں۔
انھوں نے کہاکہ ہمیں اندر نہ آنے دینے کا مقصد میرٹ کی پامالی، کرپشن پر بات کرنے پر قدغن لگانے کے مترادف ہے ، لیکن بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے کارکنان کسی مصلحت پسندی کا شکار نہیں وہ اپنے حقوق کیلییے آواز بلند کرتے ہوئے انکے مکروہ چہرے کو عوام کے سامنے بے نقاب کرینگے۔
مقررین نے کہاکہ علمی اداروں میں اپنے حقوق کے لیئے آواز بلند کرنے کو ان جیسے قوم دشمنوں اور سوداگروں نے جرم قرار دیا ۔اور کہاکہ ہم پرو وائس چانسلر جو ایک ربڑ اسٹیمپ کی مانند ہیں ، ان پر واضع کرتے ہیں کہ اپنی چاپلوسی اور بدماشی بند کرے وگرنہ پورے بلوچستان میں تحریک شروع کرینگے جہاں انھیں اپنے ہواریوں سمیت چھپنے کی جگہ نصیب نہیں ہوگی۔
انھوں نے انھیں مشورہ دیا کہ آپ نااہل لوگ کسی نفسیاتی ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ آپ کا علاج ہوسکے ۔
انھوں نے تنبیہہ کرتے ہوئے کہاکہ تعلیمی اداروں میں فورسز کے داخلہ کو بند کرکے انھیں بیرکوں میں محدود کیا جائے ، اگر نہیں تو ہم اپنے حقوق کے لیئے کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انھوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ پرو وائس چانسلر اور رجسٹرار کے خلاف جلد ایک تحقیقاتی کمیٹی بنا کر انکے خلاف تحقیق کی جائے کہ انکی غفلت اور کرپشن کی وجہ سے ادارہ مکمل طور پر کیوں تباہ ہوچکی ہے ، کیوں سہولیات کا فقدان اور تمام طلباء و طالبات انکی وجہ سے مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں ۔
پورے ادارے میں اکیڈمیک اور انتظامی امور مفلوج ہے، گرلز ہاسٹل میں واٹر کولر، مس سسٹم میں کرپشن اور ڈیپارٹمنٹس کی کمی، بسوں کا مسئلہ، اسکالر شپس میں اقرباپروری سمیت ہر سیکشن انکی نااہلی کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں۔
انھوں نے کہاکہ اگر انکے خلاف کمیٹی نہیں بنائی گئی تو ہم نہ رکنے والی تحریک کا اعلان کرینگے۔
انہوں نے تمام طلبہ پر زور دیا کہ ادارہ بلوچ قوم کا اثاثہ ہے اور اسکے تمام ملازم ہمارے ٹیکس پر پلتے ہیں کسی بھی تنخواہ خور ملازم کو یہ اجازت ہرگز نہیں دیں گے کہ وہ شعور پر قدغن لگائیں ۔
مقررین نے زور دیا کہ تمام طلبہ ایک پلیٹ پر متحد ہوکر ان ظالموں و جابروں کا راستہ روک کر ادارے کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
پروگرام میں لہداد بلوچ نے تنظیمی و تعلیمی صورتحال پر مرکزی قائدین کو آگاہ کیا۔
اس سے قبل تنظیم کے کامریڈوں اور طلباء و طالبات نے اپنے مرکزی رہنماؤں کو مین گیٹ پر پُر جوش انداز میں استقبال کرکے سسی و پنو کے سرزمین پر محبت کی تاریخ رقم کرتے ہوئے نااہل انتظامیہ کی تمام طلبہ و ادارے دشمن سازشوں کو ناکام بنا کر مرکزی چیئرمین سمیت مرکزی و علاقائی قائدین کو ویلکم کیا۔
جسکے بعد یونیورسٹی کے دوستوں نے مرکزی دوستوں کے اعزاز میں استقبالیہ پروگرام کا انعقاد کیا۔
پروگرام میں بلوچستان کے نائب صدر مرید بلوچ، جوائنٹ سیکریٹری نجیب بلوچ، یونٹ سیکریٹرے ضمیر بلوچ، زرک بلوچ، میرجان سمیت طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
