بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ پنجگور زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ مذمتی بیان میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ سالہ نوجوان طالب علم مجتبہ بلوچ کو دن دیہاڑے فائرنگ کرکے شہید کرنا حکومت وقت اور پنجگور انتظامیہ پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان طالب علم اسکول کی وردی میں ملبوس جب اسکول جارہا تھا تو راستے میں چوروں نے فائرنگ کرکے انہیں قتل کر دیا، پنجگور میں آئے روز بڑھتی ہوئی چوری، ڈکیتی اور دیگر واردات نے لوگوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ سرعام اسلحہ بردار افراد، چوروں اور ڈکیتوں کا آزادانہ طور پر گھومنا انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی بدامنی اور روازانہ کی بنیاد پر دلسوز واقعات کے رونما ہونے سے پنجگور میں نہ صرف لوگوں کا کاروبار متاثر ہورہا ہے بلکہ نوجْوانوں کے تعلیم پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، سرعام اسلحہ بردار افراد، چور اور ڈاکوؤں کا گھومنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کو انتظامیہ اور نام نہاد سیاسی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے،
ترجمان نے کہاکہ پنجگور انتظامیہ اور حکومت وقت کو زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ مقتول طالب علم مجتبہ بلوچ کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انکے لواحقین کو انصاف دلانے کے ساتھ ساتھ چوروں اور ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کرکے پَنجْگُور میں امن وامان کو بحال کریں،
روزانہ کی بنیاد پر دلسوز واقعات سے تعلیم سمیت مختلف شعبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔ لہذا اس دلسوز واقعے کے خلاف جلد کارروائی کرکے چوروں اور ڈاکوؤں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر انکو کڑی سزا دی جائے تاکہ ایک پرامن اور پرسکون ماحول پیدا ہو تاکہ تعلیم اور دیگر شعبے متاثر نہ ہوں
