بلوچ جبری لاپتہ افراد شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4767 دن مکمل

شال :بلوچ جبری لاپتہ افراد شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4767 دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں نوشکی سے سیاسی سماجی کارکن امیر محمد بلوچ داد محمد بلوچ ہر فکر کے مرد خواتین کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی. وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کی جدو جہد میں متحرک اور منظم ہو رہا ہے، اسی تسلسل کے ساتھ ریاست پاکستان کی بربریت نے نئے ہتھکنڈوں میں اضافہ دیکھنے کو آرہا ہے 73 سالوں سے جاری قبضہ کے خلاف پرشگاف سلوگن کے ساتھ عملی جدو جہد کو گھر گھر پہنچانے کے جس سلسلے کا پاداش میں ہزاروں رہنماؤں اور ورکروں کو جبری لاپتہ اور شہید کیا گیا یہ سلسلہ جاری ہے ،ہزاروں خیر خواہ آج بھی ریاستی زندانوں میں تاریخ ساز تشدد کے شکار ہیں . انہوں نے کہا کہ ہزاروں بلوچ کارکنوں کے گھروں کو جلایا گیا لوٹ مار کی گئی اور خواتین بچوں کی حرمت کو تار تار کیا گیا وی بی ایم پی تنظیم کو اس بات کا ادراک بخوبی ہے کہ ریاست کے جانب سے اس سلسلے میں کمی نہیں آئے گی اور اپنی قبضہ کو برقرار رکھنے کے لیے وہ بلوچ قوم کی سلو جینو ساہیڈ میں تیزی لاے گی لیکن بلوچ رہنماؤں کارکنوں کے قدموں میں قابض کی تمام کی تمام بربریت کے باوجود لرزش نہیں آئی گی ۔ ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ افراد کے بجائے تنظیم کو مضبوط کر کے اداروں کی تشکیل کا ذمہ بلوچ قوم کے سامنے ہے ریاستی جبر جبری اغواء شہادتوں میں ہر روز تیزی کا سلسلہ جاری ہے یہ عمل قابض مقبوضہ کے درمیان معمولی امر لگتی ہے ، لیکن بلوچیت کے دعوے دار جو آج پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں یا ریاستی قبضہ کا حصہ ہیں ان کے لیے سوچنے کی امر ضرور ہے نہ کے اداروں کو تھوڑنے کی ریاست پاکستان اس کی فوج کو بلوچ ننگ و ناموس بلوچ سے کوئی سرو کار نہیں وہ تو صرف بلوچ زمین اس کی وسائل کا طلب گار ہے اور غلامی کی یہ سفر جتنی لمبی ہوتی جائے گی اس طرح بلوچ ماں بہن کی ننگ ناموس کا کہلواڑ یہ ریاست کرتا رہے گا۔ انھوں نے کہاکہ آج بلوچ قوم نے جس بہادری کے ساتھ اپنی پرامن جد وجہد کو ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچا دیا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام مکاتب فکر کے لوگ اپنی ننگ ناموس لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دشمن کی تمام چالوں کا ادراک کرتے ہوئے پرامن جد وجہد میں اپنا کردار ادا کریں دشمن کی چالوں میں نہ آئیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post