بلوچ جبری لاپتہ افراد کے قتل کے خلاف بی این ایم جرمنی کا احتجاج

بون : 23 جولائی کو بلوچ نیشنل موومنٹ جرمنی کی طرف سے بون شہر میں پاکستانی فوج کی طرف سے بلوچستان میں جعلی مقابلوں میں جبری لاپتہ افراد کے قتل کے واقعات میں اضافے کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور جبری لاپتہ افراد کے جعلی مقابلوں میں حراستی قتل کے خلاف نعرے لگائے۔بی این ایم کی طرف سے اس موقع پر پمفلٹ بھی تقسیم کی گئی جس میں بلوچستان میں جبری لاپتہ افراد اور پاکستانی فوج کے بلوچستان میں جاری مظالم کے بارے میں مقامی افراد کو آگاہی دی گئی۔بلوچ ری پبلیکن پارٹی کے ممبران نے بھی اس مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم جرمنی چیپٹر کے جوائنٹ سیکریٹری نے کہا پاکستان نے 11 معصوم لوگوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا اور بعد میں دعوی کیا کہ یہ بلوچ لبریشن آرمی کے ممبر تھے۔لیکن سچائی یہ ہے کہ وہ جبری بلوچ لاپتہ افراد تھے جنھیں پہلے ہی پاکستانی فوج اغواء کرکے اپنے ٹارچرسیلز میں قید کرچکی تھی۔ انھوں نے مزید کہا دنیا کو پاکستانی فوج کا یہ عمل جنگی جرائم کے طور پر دیکھنا چاہیے اور یہ عالمی اداروں اور ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچستان میں ان سنگین جرائم پر پاکستان کا محاسبہ کریں۔ بی این ایم نیدرلینڈز چیپٹر کے جنرل سیکریٹری عمران حکیم نے بھی مظاہرے میں شرکت کی ، انھوں نے اپنے خطاب میں کہا پاکستانی فوج بلوچستان بلوچ قوم کی نسل کشی کر رہی ہے۔وہ بلوچ چرواہوں، طالب علم،ڈاکٹر اور انجنیرز کو قتل کر رہے ہیں۔آج جو ممالک اور ادارے پاکستان کی معاشی مدد کر رہے ہیں انھیں چاہیے کہ پاکستان سے متعلق اپنے پالیسی پر نظر ثانی کریں۔کیونکہ پاکستان اس امداد کو بلوچستان میں معصوم لوگوں کے قتل کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ بی این ایم کے ممبر احمد بلوچ نے کہا بلوچ بغیر کسی وارنٹ کے اغواء کیے جا رہے ہیں ، ان پر غیرانسانی تشدد کیا جا رہا ہے اور جبری لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کرکے انھیں دہشت گرد بتایا جا رہا ہے ، یہ اب نیا معمول بن چکا ہے۔ بدل بلوچ ، بی این ایم ۔ این آر ڈبلیو کے یونٹ سیکریٹری نے اس موقع پر کہا پاکستان ایک دہشت گرد ریاست ہے جو معصوم لوگوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کر رہی ہے اور لوگوں سے احتجاج کا حق چھینا جا رہا ہے۔ بی آر پی کے میڈیا منیجر جلیل بلوچ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستانی فوج اپنے خفیہ اداروں کے ہاتھوں پانچ یا دس سال سے جبری لاپتہ افراد کو قتل کر رہی ہے۔یہ عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو امداد دینا بند کریں اور یورپی یونین پاکستان کے جی پلس اسٹیٹس کو ختم کرے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ جرمنی کے ممبر امجد بلوچ نے کہا کہ دنیا کو پاکستانی فوج کے ہاتھوں بلوچ نسل کشی کا نوٹس لینا چاہیے۔ صادق بلوچ نے کہا جبری بلوچ لاپتہ افراد کا جعلی مقابلوں میں قتل پاکستانی فوج کی طرف سے بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے۔یہ عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو امداد دینا بند کریں ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post