کوئٹہ جبری گمشدگیوں خلاف احتجاج جاری

بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4698 دن ہوگئے ۔ آج اظہارِ یکجہتی کرنے والوں میں شال سے سیاسی اور سماجی کارکنان شامل تھے ۔ اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پر سنز (وی بی ایم پی) کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اظہار یکجہتی کرنے والوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی مقبوضہ خطے میں چھاؤنیاں بڑھا جاتی ہیں تو فوج ملکی سرحدوں کی بجائے اس مقبوضہ زمین کے کونے کونے میں مسلط ہوجاتی ہے ، اور پھر مقامی لوگوں کو اٹھا اٹھا کر جبری لاپتہ کر دینا شروع کر دیتا ہے ، لوگوں پر ناجائز الزامات لگا کر انہیں ملک دشمن قرار دیکر ان کے نسل کشی کی جاتی ہے. انھوں نے کہاکہ اس وقت بلوچستان میں ریاست نے دہشت گردانہ کارروائیوں میں تیزی لائی ہے، مختلف علاقوں میں فوج نے اپنے مقامی ایجنٹوں کے زریعے فوجی بربریت اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تیزی سے جاری کیا ہوا ہے۔ کراچی کے بھی مختلف بلوچ علاقوں میں پچھلے کئی مہینوں سے بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں میں تیزی لائی گئی ہے۔ ہماری تنظیم شروع دن سے ان سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے بلوچستان میں ریاستی مظالم کو آشکار کرتا آرہاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ریاست نے عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی دھجیاں اڑا ئی ہیں، مگر ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، آج انسانی حقوق کے تنظیموں کے دعویٰ اور بیانات لفاظی رہ گئے ہیں، بلوچستان انسانی حقوق کے حوالے سے بلیک ھول بنتا جا رہا ہے، نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا بلیک آؤٹ ہے، سب نے چشم پوشی روا رکھا ہوا ہے - انھوں نے کہاکہ حد یہ کہ اکا دکا انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے نوٹس لینے اور اعلامیے جاری ہونے باوجود ، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں نا کوئی کمی آ رہا ہے نا ان پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post