کراچی سے لاپتہ طالب علم کو فریب سے ،خودکش حملہ آور کا ساتھی قرار دیاگیا

کراچی کاونٹرٹررزم ڈیپارٹمنٹ( سی ٹی ڈی ) نے رواں سال اپریل میں کراچی یونیورسٹی میں چینی شہریوں پر خودکش حملے میں ملوث ملزم کی شناخت کا دعوی کردیا ہے - سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم داد بخش کو چشم دید گواہ نے عدالت میں شناختی پریڈ کے دوران شناخت کیاہے ۔ سی ٹی ڈی کے دعوی مطابق مزید تفتیش کرنے بعد ملزم کی نشاندہی پر اسکے گھر نہارو گوٹھ میں تلاشی کے دوران اہم شہادتوں کو قبضے میں لے کر دو دستی بم، ریموٹ کنٹرول سرکٹ، بارود، وائر ڈیٹونیٹر برآمد کیے گیے ہیں ۔ اور ملزم پر مزید مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب جبری لاپتہ طالب علم داد بخش عرف شعیب بلوچ کی ہمشیرہ نے سی ٹی ڈی کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 29 اپریل کو جب ریاستی اہلکاروں نے شعیب اعظم کے کمرے پر چھاپہ مارا تو شعیب کے کمرے کے نزدیک دیگر طالب علم بھی رہائش پذیر تھے۔ اس وقت ریاستی اہلکاروں نے باقی افراد کو جانے دیا اور صرف شعیب کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے اور لاپتہ کردیا ۔ ہمیشرہ نے کہا کہ اگر سی ٹی ڈی کے دعوی کو سچ بھی مانا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جب شعیب کو اغوا کیا گیا اس وقت انکے گھر سے اسلحہ گولہ بارود کیوں بر آمد نہیں ہوا ۔؟ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وزیر اطلاعات نے اپنے پریس کانفرنس میں شعیب کی گرفتاری ماری پور ھاکسبے سے ظاہر کی اور آج گلشن اقبال کے گھر پر چھاپہ مار کر اسلحہ و گولہ بارود بر آمد کرنے کا ڈرامہ رچایا جارہاہے عجیب بات ہے اور سی ٹی ڈی کے جھوٹ سے پردہ اٹھانے کیلے کافی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے ہزاروں جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے ،انہیں سوچنا چاہیے کہ سچائی نہیں چھپ سکتی۔ خیال رہے کہ بلوچ قوم پرست سیاسی سماجی جماعتیں ،تنظیمیں اور انسانی حقوق کے ادارے شروع دن سے سی ٹی ڈی کی کاروائیوں پر تشویش کا اظہار کرچکی ہیں کہ لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانے کے بعد سی ٹی ڈی جعلی کیسز بنانے انھیں ھلاک کرنے میں ماہر بن چکاہے ۔ اور وہ بھول جاتے ہیں کہ عوام ان کے ہر فریب سے واقف ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ لاپتہ افراد کو کس طرح جعلی مقابلوں میں ھلاک اور سنگین الزامات میں سلاخوں کے پیچھے پھینک رہے ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post