خضدار سے جمعیت علماء اسلام کے رکن بلوچستان اسمبلی میریونس عزیز زہری نے سی ٹی ڈی کراچی کی جانب سے خضدار میں کی جانے والی کارروائی کے دوران چادر اور چار دیواری کے پامالی اور بلوچ خواتین کی گرفتاری پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اپنے بیان میں میر یونس عزیز زہری نے سی ٹی ڈی سندھ کی بلوچستان میں بغیر اجازت کارروائی کو انتظامیہ کی نا اہلی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے صوبے سے پولیس نے آکر خضدار میں کئی گھنٹوں تک کارروائی کی اور خواتین اہلکاروں کے بغیر گھروں میں گھس کر چادر اور چار دیواری کے تقدس اور بلوچ روایات کی نہ صرف پامالی کی بلکہ خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور خواتین کو گرفتار کیا ۔ اس بد ترین رویے کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود انتظامیہ اور پولیس غفلت کی نیند سوئی رہی۔ میر یونس عزیز زہری کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے کوئی جرم کیا یا کسی پر کوئی شک تھا تو انہیں روایات کی پاسداری کرتے ہوئے قانونی کارروائی کی جاتی مگر سی ٹی ڈی کراچی نے بلوچستان کے قبائلی روایات کو پاؤں تلے روندا۔ ہم کسی کو خواتین کی بے عزتی اور خضدار کے عوام سے نا انصافی کی اجازت نہیں دیں گے۔ بے گناہ افراد کی گرفتاری اور بلوچ خواتین کی سی ٹی ڈی سندھ کے ہاتھوں بے عزتی کا معاملہ بلوچستان اسمبلی میں اٹھائیں گے اور بھرپور احتجاج کریں گے۔ دریں اثناء ایم پی اے خضدار نے سی ٹی ڈی سندھ کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کرکے خضدار میں کی جانے والی کارروائی پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ سی ٹی ڈی سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ تفتتیش میں بے گناہ ثابت ہونے والوں کو جلد رہا کردیا جائے گا