کوئٹہ ( نامہ نگار) تربت ناصرآباد میں قابض پاکستانی فوج کی آپریشن جاری 4 دکاندار لاپتہ ، متاثرہ خاندانوں نے مرکزی روڈ بند کردیا ۔
علاقائی زرائع کے مطابق ناصرآباد میں سرچ آپریشن کے دوران
فورسز نے عتیق ولد ڈاکٹر اختر، جاسم کنگ، محمد جان شکاری اور سیف اللہ نذیر ولد نذیر احمد نامی دکانداروں کو گرفتار کرلیا۔
زرائع کے مطابق متاثرہ خاندانوں نے زبیدہ جلال روڈ پر احتجاج شروع کردیا ،جس کے باعث سڑک پر ٹریفک کی روانی بند ہوگئی۔
دوسری جانب تمپ خیر آباد میں پاکستانی فورسز نے گھروں کو نذر آتش کردیا۔ متاثرہ گھروں میں گل محمد اور خلیل کے گھر شامل ہیں۔
علاقائی ذرائع کے مطابق دو روز قبل فورسز نے دوران آپریشن ایک گھر کو نذر آتش کیا جبکہ گذشتہ شب فوج کی حمایت یافتہ 'ڈیتھ اسکواڈ' ارکان نے ایک گھر کو نذرآتش کردیا۔
گل محمد کے گھر پر اس سے قبل بھی حکومتی حمایت یافتہ مسلح گروہ نے دستی بموں سے حملہ کیا تھا۔
بلوچستان کے ضلع مستونگ اور گوادر سے دو افراد کی جبری گمشدگی کی اطلاعات ہیں، جبکہ مستونگ اور کیچ سے تعلق رکھنے والے دو جبری لاپتہ افراد بازیاب ہوگئے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق مستونگ کے علاقے جنگل کراس میں 12 اکتوبر 2026 کی رات تقریباً ایک بجے پاکستانی فورسز (ایف سی) نے گھر پر چھاپہ مار کر 26 سالہ محمد آصف ولد لعل محمد کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ محمد آصف پیشے کے لحاظ سے گیراج مکینک ہیں اور جنگل کراس، مستونگ کے رہائشی ہیں۔
دوسرے واقعے میں گوادر کے علاقے پسنی، وارڈ نمبر 7 سے 19 سالہ طالب علم رحیم لال ولد لعل بخش کو 27 جون 2026 کی رات تقریباً ایک بجے گھر سے پاکستانی خفیہ اداروں (ایم آئی، آئی ایس آئی) اور فوج کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
دریں اثنا، مستونگ کے رہائشی ممتاز بلوچ ولد سلطان محمد، جو 5 جون 2026 کو جبری لاپتہ ہوئے تھے، 16 اکتوبر کو کوئٹہ سے بازیاب ہوگئے۔
اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے بالگتر کے رہائشی عبدالغفار ولد حسین بھی بازیاب ہوگئے ہیں۔ انہیں 9 اکتوبر 2026 کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وہ 15 اکتوبر کو ضلع لسبیلہ کے علاقے اوتھل سے بازیاب ہوئے۔
