گوادر ( ویب ڈیسک ) گوادر کے علاقے پانوان، جیونی سے کلمتی خاندان کے حوالے سے ایک نہایت افسوسناک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں خاندان کے مطابق ان کے متعدد گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔
خاندان کا کہنا ہے کہ جن گھروں میں کبھی خاندان کے افراد آباد تھے، جہاں بچوں کی آوازیں، بزرگوں کی دعائیں اور برسوں کی یادیں وابستہ تھیں، وہ اب ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ خاندان کے مطابق یہ کارروائی صبح تقریباً 4 بجے کی گئی، جب علاقے میں پاکستانی فورسز، پاکستان کوسٹ گارڈ، ایم آئی (MI) اور ایف سی کے اہلکار پہنچے۔
نوربخش کلمتی کا گھر بھی ملبے میں تبدیل،
خاندان کے مطابق 12 اور 13 فروری 2026 کی درمیانی شب گوادر کے علاقے پانوان میں حاجی ابراہیم کلمتی کے بڑے بیٹے نوربخش کلمتی کے گھر کو لوڈر کے ذریعے مسمار کیا گیا۔
خاندان کا کہنا ہے کہ رات کے اندھیرے میں شروع ہونے والی کارروائی کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور ایک ایسا گھر، جس کے ساتھ خاندان کی برسوں کی یادیں اور زندگی جڑی ہوئی تھیں، چند لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔
خاندان کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی کسی عدالتی حکم یا قانونی تنازع کے بغیر کی گئی، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایک بھائی کی لاش، دوسرے کی گمشدگی اور پھر گھر کی مسماری،
کلمتی خاندان کے لیے یہ واقعہ محض ایک گھر کے گرنے کی داستان نہیں، بلکہ مسلسل صدموں کی ایک طویل کڑی ہے۔
خاندان کے مطابق نوربخش کلمتی کے چھوٹے بھائی صوفی طارق کلمتی کو 11 اور 12 مئی 2025 کی درمیانی شب گوادر کے علاقے جیونی سے مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ اگلے روز پلیری کے علاقے سے ان کی گولیوں سے چھلنی لاش ملنے کی اطلاع سامنے آئی۔
انسانی حقوق کی تنظیم پانک (PANK) نے اس واقعے کو جبری قتل قرار دیتے ہوئے مذمت کی تھی۔
اس سانحے کا غم ابھی تازہ ہی تھا کہ خاندان کے مطابق 27 اگست 2025 کو نوربخش کلمتی کو کراچی سے مبینہ طور پر اٹھا کر لاپتہ کر دیا گیا۔ خاندان کے مطابق وہ بعد ازاں 28 فروری 2026 کو رہا ہوئے۔
اور اب، خاندان کے مطابق، اسی گھر کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے۔
ملبے میں صرف اینٹیں نہیں، یادیں بھی دفن ہیں
کلمتی خاندان کا کہنا ہے کہ ان کا حکومت کے ساتھ کوئی تنازع نہیں اور نہ ہی ان کی جانب سے کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی کوئی وجہ ہے۔ خاندان کے مطابق اس کے باوجود انہیں مسلسل دباؤ، گرفتاریوں، مبینہ جبری گمشدگیوں اور اب گھروں کی مسماری کا سامنا ہے۔
ایک گھر صرف دیواروں، دروازوں اور چھت کا نام نہیں ہوتا۔
وہ ایک خاندان کی تاریخ، بزرگوں کی یادیں، بچوں کا بچپن اور نسلوں کی محنت کا نشان ہوتا ہے۔
کلمتی خاندان کے مطابق جب ان کے گھر مسمار کیے گئے تو صرف تعمیرات نہیں گرائی گئیں، بلکہ ان کے ساتھ جڑی یادیں، برسوں کی محنت اور ایک خاندان کا سکون بھی ملبے تلے دب گیا۔
انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش
انسانی حقوق کی تنظیم پانک بھی کلمتی خاندان کے خلاف مبینہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے اور ان واقعات کو بلوچ خاندانوں کی معاشی و سماجی خودمختاری پر دباؤ کے تناظر میں دیکھتی ہے۔
ایسے واقعات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ گھروں کی مسماری کس کے احکامات پر ہوئی، اس کی قانونی بنیاد کیا تھی اور متاثرہ خاندان کو کوئی قانونی نوٹس یا مؤثر طریقۂ اپیل فراہم کیا گیا یا نہیں۔
اہم وضاحت: پاکستانی فورسز، پاکستان کوسٹ گارڈ، ایم آئی اور ایف سی کے ملوث ہونے کا دعویٰ خاندان اور مقامی ذرائع کے مؤقف کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ اسے حتمی ثابت شدہ حقیقت قرار دینے کے لیے متعلقہ سرکاری حکام کا مؤقف اور آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
کلمتی خاندان کے لیے یہ صرف گھروں کے گرنے کا واقعہ نہیں؛ یہ پہلے ہی کئی صدمات سے گزرنے والے ایک خاندان کے لیے ایک اور گہرا زخم ہے۔
