خضدار شہداءِ مولہ رائیکو کے متاثرہ خاندان کا تردیدی بیان

 


خضدار ( نامہ نگار ) ضلع خضدار شہدائے مولہ بلوچستان
کے متاثرہ خاندان کے افراد ایک  بیان کے ذریعے خضدار (مولہ رائیکو ) میں پیش آنے والے خونریز واقعے کے بعد سرکاری اداروں اور عسکری بیانیے کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہاکہ  ہم حقیقتِ حال ملک و قوم کے سامنے رکھتے ہیں
آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز جس میں ہمارے پیاروں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا ہے، وہ سراسر جھوٹ من گھڑت اور سچائی کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔
ہم کون ہیں؟
ہماری حقیقت اور ذریعۂ معاش کیا ہے؟
ہم اس ملک کے پُرامن اور قانون پسند شہری ہیں۔ ہمارے علاقوں میں روزگار کے ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں نہ کوئی کارخانے ہیں اور نہ ہی سرکاری نوکریاں۔ ایسی حالت میں ہم اپنی اور اپنے بچوں کی روزی روٹی کمانے کے لیے مجبوری کے تحت تیل کے کاروبار (ڈرائیونگ/مزدوری) سے وابستہ ہیں۔
اس محنت مزدوری کے علاوہ ہمارے پاس زندہ رہنے اور اپنا پیٹ پالنے کا اور کوئی راستہ نہیں۔ ہم اپنے ہی وطن میں محنت کر کے دو وقت کی روٹی کمانے والے عام شہری ہیں ہمارا کسی قسم کی غیر قانونی پرتشدد یا غیر ملکی ایجنسیوں سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔
واقعے کی اصل حقیقت
واقعے والے دن ہمارے خاندان کے افراد دن بھر محنت مزدوری اور اپنے روزگار کی تھکاوٹ کے بعد رات دیر گئے سوئے ہوئے تھے کہ اچانک ڈورن حملے کے نتیجے میں ہمارے خاندان کے چار افراد ناحق جانبحق (شہید) ہو گئے
1 عرفان ولد عبدالحمید
2 میر گل ولد محمد حسین
3 علی گل ولد محمد حسین
4 امان ولد نور بخش
اس کے علاوہ ہمارے خاندان کا ایک فرد منیر شدید زخمی ہے، جو اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ یہ تمام پرامن شہری اپنے روزگار کے سلسلے میں وہاں موجود تھے اور بے خبری کی حالت میں سوئے ہوئے تھے جب ان پر یہ ڈرون حملہ کر کے قیامت ڈھائی گئی۔
ہمارے سوالات
مزدوروں کو دہشت گرد بنانا اپنے ہی پُرامن شہریوں پر سوئے ہوئے حالت میں ڈرون حملہ کرنا اور پھر ایک کاغذی پریس ریلیز جاری کر کے انہیں دہشت گرد قرار دے دینا کون سا انصاف ہے؟
روزگار بھی نہیں اور زندگی بھی محفوظ نہیں اگر ہمارے پاس روزگار کے ذرائع نہیں ہیں اور ہم تیل کا کام کر کے گزر بسر کرتے ہیں تو کیا اس کی سزا ڈرون حملے میں موت ہے؟
آئین کا قتل: اگر ہمارے پیاروں پر کوئی الزام تھا تو انہیں کسی عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا؟ ایک ہی لمحے میں چار گھروں کے چراغ بجھا دینا کہاں کی قانون داری ہے؟ ہم اس بیان کے ذریعے اعلیٰ حکام اور منتخب نمائندوں سے اپیل کرتے ہیں
وزیر اعلیٰ بلوچستان: جناب سرفراز بگٹی
سابق ایم این اے خضدار سردار اختر جان مینگل
وزیر زراعت: میر علی مدد جتک
آئی جی بلوچستان پولیس
آئی جی ایف سی بلوچستان
رکن صوبائی اسمبلی حلقہ مولہ/زہری نواب ثناء اللہ خان زہری
رکن صوبائی اسمبلی خضدار میر یونس عزیز زہری
کمشنر قلات ڈویژن طفیل بلوچ
ڈی سی خضدار عبد الرزاق ساسولی
ڈی آئی جی قلات رینج
ایس ایس پی خضدار
ان تمام سیاسی و انتظامی عہدیداروں، منتخب نمائندوں اور پولیس و سیکیورٹی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ڈرون حملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائیں اور سچائی کو سامنے لائیں۔
متاثرہ خاندان کے مطالبات
اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری:
اس واقعے کی فوری طور پر سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کے ذریعے شفاف انکوائری کروائی جائے۔
بیانیے کی واپسی:
آئی ایس پی آر کی جھوٹی پریس ریلیز کو فوری واپس لیا جائے اور ہمارے شہداء پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کو ختم کیا جائے
انصاف اور محاسبہ: اس بے گناہ قتلِ عام کے ذمہ داران کی نشاندہی کر کے انہیں آئین اور قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
موجودہ نظام سے ناامیدی اور آخری فیصلہ
اگرچہ ہم نے تمام حکام اور اداروں کے سامنے اپنا مقدمہ رکھ دیا ہے، لیکن اس موجودہ نظام عدل کے تقاضوں اور بے حس رویوں سے شدید ناامید ہو کر ہم اپنا معاملہ اور آخری فیصلہ اللہ رب العزت کی عدالت پر چھوڑتے ہیں وہی بہترین انصاف کرنے والا ہے اور مظلوم کی آہ کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیتا۔



Post a Comment

Previous Post Next Post