اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر جھوٹ بولنا اور غلط بیانی کرنا کسی قد آور سیاسی شخصیت کو زیب نہیں دیتا۔ ریحانہ حبیب جالب بلوچ

 


کوئٹہ ( نامہ نگار )
سینئر سیاستدان اور معروف سوشل ایکٹوسٹ میڈم ریحانہ حبیب جالب بلوچ نے اپنے سخت ردِعمل میں کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت نہایت نازک اور سنگین حالات سے گزر رہا ہے، ایسے حساس ماحول میں پشتون قوم پرست رہنما محمود خان اچکزئی کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ، نفرت انگیز اور گمراہ کن بیانات دینا ایک منظم سازش کے مترادف ہے، جس کا مقصد برادر اقوام کے درمیان نفرت اور تصادم کو ہوا دینا ہے۔
ریحانہ حبیب جالب بلوچ نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کا کوئٹہ کی تاریخ اور بلوچ قبائل سے متعلق حالیہ بیان نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی بھونڈی اور ناکام کوشش بھی ہے۔ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ کوئٹہ میں شاہوانی بلوچ قبائل صدیوں سے آباد ہیں، اور آج بھی شہر میں زمینیں، جائیدادیں اور زمینداریاں شاہوانی بلوچ قبائل کی جدی پشتی ملکیت ہیں، جنہیں کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ “پہلے یہ واضح کیا جائے کہ آپ خود کہاں کے رہنے والے ہیں، اس کے بعد کوئٹہ اور اس کی تاریخ پر بات کریں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر جھوٹ بولنا اور غلط بیانی کرنا کسی قد آور سیاسی شخصیت کو زیب نہیں دیتا۔ محمود خان اچکزئی کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنی تاریخ اور معلومات درست کریں، کیونکہ کوئٹہ ایک کثیر القومی شہر ہے جہاں ہر قوم اور ہر زبان کے لوگ آباد ہیں، اور کسی ایک قوم کی اجارہ داری کا دعویٰ سراسر بدنیتی اور تعصب پر مبنی ہے۔
گودی ریحانہ بلوچ نے مزید کہا کہ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ بلوچ اور پشتون اپنی اپنی سرزمینوں پر آباد ہیں، اور جب بھی بعض نام نہاد پشتون قوم پرستوں کو عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہوتی تو وہ نفرت انگیز بیانات دے کر حالات خراب کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام اب ایسے موقع پرست، جھوٹے اور نفرت پھیلانے والے عناصر کو بخوبی پہچان چکے ہیں اور ان کی اشتعال انگیزی میں ہرگز نہیں آئیں گے۔ کوئٹہ اور بلوچ قبائل کی تاریخ کسی ایک شخص کے بیان کی محتاج نہیں، اور نہ ہی کوئی مہاجر یا مفاد پرست سیاستدان اس تاریخ کو مسخ کر سکتا ہے۔
آخر میں انہوں نے انتہائی سخت اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بلوچ قوم کے نام پر ہرزہ سرائی اب بند ہونی چاہیے۔ بلوچ قوم نہ کسی کی جاگیر ہے، نہ کسی کے سیاسی مفاد کی سیڑھی، اور نہ ہی اس کی تاریخ کسی مفاد پرست کی مرضی سے لکھی یا مٹائی جا سکتی ہے۔ بلوچ قوم کی شناخت پر سوال اٹھانا دراصل اپنی جہالت اور تعصب کو بے نقاب کرنے کے مترادف ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post