بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ کا پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے خلاف اہم پریس کانفرنس

 


کوئٹہ ( نامہ نگار ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈوکیٹ اور دیگر کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس۔انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی جانب سے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کے خلاف پریس ٹاک کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے وزیراعلیٰ کی اپنی نااہلی چھپانے قرار دیتی ہیں

اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ، مرکزی لیبر سیکریٹری موسیٰ بلوچ، مرکزی سیکرٹری انسانی حقوق احمد نواز بلوچ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین ثنا بلوچ، غلام نبی مری، چیئرمین واحد بلوچ، چیئرمین جاوید بلوچ، ٹکری شفقت، ضلع کوئٹہ آرگنائزر وحید لہڑی، ڈپٹی آرگنائزر جاوید بلوچ، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی، ایڈووکیٹ فریدہ بلوچ، لالا غفار، میر غلام رسول مینگل، مصطفیٰ سمالانی، حبیب اللہ ، نصیر مینگل ، نعمت ہزارہ ، ناصر قمبرانی ، ایڈووکیٹ طاہر شاہوانی ، سمیت دیگر سینئر اراکین موجود۔

ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ وہی وزیراعلیٰ ہے جس نے 3 سال قبل سینیٹر کی حیثیت سے کہا تھا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو ان کے حقوق نہ دیئے گئے تو وہ بندوق اٹھائیں گے، میں ان کے ساتھ ہوں جو اپنے حقوق کے لیے بندوق اٹھاتا ہے۔

سردار اختر جان مینگل کو صرف اس لیے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے کہ فارم 47 ممبران جانتے ہیں کہ وہ بلوچستان کے حقیقی مسائل کو اجاگر کر رہے ہیں۔
ہماری پالیسی واضح ہے کہ بندوق بلوچستان کا حل نہیں اگر کسی طرف سے بھی اٹھایا جائے ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے حالات میں کئی معصوم جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں۔
کٹھ پتلی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے بلوچستان کے نوجوانوں میں نفرت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ساجد ترین

اسٹیبلشمنٹ نے بلوچستان میں ایسی کٹھ پتلی حکومت اور ممبران پارلیمنٹ لگانے کے نتیجہ دیکھا رہی ہیں۔
8 فروری کے بوگس انتخابات سے قبل سردار اختر جان ان تمام چیزوں پر روشنی ڈالی جو اب ملک میں ہو رہی ہیں لیکن کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اپنی نااہلی چھپانے کے لیے سردار اختر جان مینگل پر غلط الزام لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔
سردار اختر جان مینگل اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہمیشہ بلوچستان کے مظلوم اقوام کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
اس ملک میں جب بھی کوئی سچ بولنے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کرتا ہے تو اسے غدار قرار دیا جاتا ہے۔
ہماری جماعت نے ہمیشہ کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور صرف سنجیدہ اور موثر مذاکرات سے حل ہوں سکتے ہیں۔
یہ فارم 47 حکومت اب مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، جب بلوچستان کے 12 اضلاع حملے کی زد میں تھے تو حکومت کی رٹ کہاں تھی؟
فارم 47 ممبران ایسے ماحول میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر حالات معمول پر آ گئے تو وہ کونسلر الیکشن بھی نہیں جیت پائیں گے۔
بلوچستان حکومت کو امن سے کوئی دلچسپی نہیں، انہیں اپنی کرپشن میں دلچسپی ہے۔
بی این پی سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی رہے گی۔ اس طرح کے پریس کانفرنسز، جعلی کیسز اور کارروائیاں ہمیں روک نہیں سکتیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post