بلوچستان کے عوام کی حالت صدیوں سے افریقی ممالک کی طرح اسکی قدرتی وسائل کی موجودگی کی وجہ سے جہنم بنا دیئے گئے ہیں،بلوچستان کے سونا چاندی ہر طاقتور کے آنکھوں میں کھٹک رہے ہیں اور سوچتے ہیں کہ انھیں کیسے نکال کر ہڑپ کیاجائے ،اس کے کیلے وہ کبھی نمائشی پیار تو کبھی درندگی پر اتر آتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کو بلوچستان کو تین حصوں میں بانٹ دیا گیا تاکہ آسانی سے لوٹ مار مچا سکیں ۔
اگر ہم مقبوضہ پاکستانی بلوچستان کی بات کریں تو انگریز داد نے ہندستان میں مارکھانے دوران بدلہ لینے اسے مات دینے کیلے پاکستان کو بلوچستان کا چورن نہ صرف دکھایا بلکہ حقیقی معنی میں تنہا کرکے ہڑپ کروانے میں بنیادی کردار اداکیا ۔اس کیلے انھوں نے دنیا کو دکھانے ، ہندوستان کو عمل بکھیرنےکیلے پہلے بلوچستان کی آزاد حیثیت کا اعلان کیا ، تاکہ کوئی بھی پاکستان کی درندگی کو روکنے کیلے آواز نہ اٹھا سکیں، خصوصا ہندوستان حمایت میں بات نہ کرسکیں۔ہندوستان کو جب توڑ کر غیر فطری ریاست کو پاکستان بنایا گیا تو مذہبی کارڈ استعمال کرکے مسلمان ہندو کے نام پر معصوم لوگوں کا خون بہایا گیا ۔دوسری جانب مسلمان والی کالک خان قلات کے منہ پر مل دیاگیا ،ماجون کے نشے میں چور خان نے دوسری جانب فاطمہ جناح کی عورت پن میں بہہ کر ٹھرک پن اور دولت مند ہونے کے دکھاوے کا شکار ہوا ، دکھاوے کی حد یہ کہ وہ اتنے اندھے ہوگئے یا بنادیئے گئے کہ سونا چاندی نکال کر انھیں سونے سے تولا گیا،وہ بھول گئے کہ وہ ایک ناگن کو زہر بھردی ہے جس کی زہر پاکستانی فوج انکے خلاف استعمال کرکے انھیں ہی لے ڈوبیں گے ،پاکستان طاقتور بننے بعد وہی کیا جو منصوبہ بنایا جاچکاتھا ۔
بلوچستان کو قبضہ کیاگیا کوئی کچھ نہیں بول سکا ۔جس کے بعد وسائل کی چوری کی باقاعدہ آغاز گیس سے کی گئی بلوچستان کا گیس پانچ سال میں پنجاب بھر کے کارخانوں گھروں میں پہنچا دیا گیا، مگر بلوچستان کے دارالحکومت کو ئٹہ میں وہ بھی اپنی فوج کی سہولت کیلے 25 سال بعد گیس پہنچاکر الٹا عوام پر احساس عظیم کرنے کا دعوی کیاگیا۔
قبضہ کے 75 سال دوران بلوچستان سے اپنی حقوق کی حصولی کی بات کرتا اسے گولی سے خاموش کیاجاتا جو خاموش رہے وہ لٹتے رہے اور لٹ رہے ہیں ۔
ون یونٹ بعد نام نہاد پارلیمنٹ بنائے گئے مگر فوج نے جغرافیہ کو چھوڑ کر آبادی کو جواز بناکر پنجاب کا پیٹ بھرنے کا بیڑا اٹھادیا ۔
بلوچستان کے بچے کچھے یا وہ علاقے جہاں روڈ بجلی ،پانی کا انتظام نہیں تھا وہاں بلوچستان کے شہریوں کو انتظامی یا دیگر شعبہ جات میں کھپانے کا سلسہ شروع کردیا تاکہ انتظامی سیٹ خالی نہ جائیں اور ان علاقہ سے بھی پنجابی بیروکریسی فوج کی آمدنی آتی رہے ۔
انھیں خیراتی پوسٹوں میں سے ایک نائب تحصیلداری کی پوسٹ خضدار کےعلاقہ مشکے رہائشی محمد بخش ساجدی کو بھی سونپ کر احسان عظیم کردیا۔راقم صحافت سے وابسط ہونے کے ناطے ساجدی سے شناسا ہوگئے ۔ بلوچستان کے دیگر ڈویژنوں کی طرح قلات ڈویژن میں بھی اس دوران سرکاری کئی پوسٹوں پر آئی ایس آئی ایم آئی کی شفقت سے کرپٹ آفیسر پراجماں تھے اور تو اور پٹواری کروڑ پتی بنے پھرتے تھے ۔ کہیں بھی کوئی آفیسر بغیر مٹھائی ( رشوت) کوئی سیدھا کام نہیں کرتا دکھائی دیتا تھا جو حال آج ہے ۔ مگر اس کرپٹ ماحول میں بھی محمد بخش ساجدی کی کہیں پوسٹ ہوتی طالب علموں سمیت عام طبقہ کے لوگ خوش دکھائی دیتے تھے کہ چلو کوئی تو عوام کا مسیحا ہے اگر کام نہیں ہوسکا تو کم سے کم بھاری بھرکم رشوت تو دینے نہیں پڑ رہی ہے ۔
جس طرح پہلے عرض کرچکا تھاکہ راقم کی ملاقات صحافت کے حوالے سے ان سے ہوتی رہتی تھی (فون کا نظام گھروں ،آفیسوں تک محدود تھا ) تو ایک دن راقم نے ان سے پوچھا کہ سر آپ آفیسران کی محفلوں میں دکھائی نہیں دیتے تو وہ ہنستے ہوئے کہاکہ ہماری شریفوں کیلے وہاں جگہ اگر دیکھا تو ضرور بتانا ،میں بھی سمجھ گیا کہ وہ کیا کہنا چاہتے تھے ۔پھر حالات بدلے موصوف کی پوسٹنگ کہیں اور ہوگئی آج 25 سال بعد چونکا دینے والا خبر نظروں سے گزرا کہ( ر)ریٹائرڈ ڈپٹی محمد بخش ساجدی الصبح اپنے دوبھائیوں انجنیئر رفیق اور نعیم بلوچ کے ہمراہ پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ ہوگئے ہیں جن کیلے انھوں نے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی ۔نام یاد تھا تصویر دیکھا تو وہی معصوم مسکراتا چہرہ جنھیں 25 سال پہلے دیکھا تھا وہی چہرہ جیسے اب بھی میں انکے سامنے بیٹھا ہواہوں ۔یقین جانیے جھٹکا لگا کہ ایسے لوگ جو پوجنے لائق ہیں کو ئی انھیں بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بناسکتا ہے جو اعلی عہدے پر رہنے باوجود بے ضر ر ہوں ۔یقین جانیے آنسو نہیں روک سکا حالاں کہ انکے ساتھ میرا کوئی خونی رشتہ بھی نہیں ۔
مزید خبر پڑھا تو معلوم ہوا کہ وہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کے والد صاحب ہیں ،جی ہاں وہی ڈاکٹر نسیم جو دودفعہ قابض پاکستانی فوج خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہوکر ازیتیں وحشت سہہ کر پاکستانی عقوبت خانوں سے نکل چکے ہیں ،بعد میں مجبور ہوکر ڈاکٹری کی تیار نوکری چھوڑ کر عزت کی روٹی کمانے زندہ رہنےکیلے یورپی ممالک جاکر پناہ لی ۔نسیم نے ازیت خانوں سے نکلنے کے بعد کسی تشدد کا راست اختیار نہیں کیا وہ پر امن طریقے سے انسانی حقوق کی بات شروع کی اور دنیا کو پاکستان کا کالا چہرہ دکھانا شروع کردیا کہ بلوچستان میں کوئی شریف انسان ریاست اور فوج سے محفوظ نہیں جس کا گواہ وہ خود ہیں۔ (بعد میں وہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین منتخب ہوگئے اور اب بھی چیئرمین ہیں آگے چل کر انھیں نا اتفاق بلوچ قوم چیئرمین منتخب کرتے ہیں یا نہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا )۔
پھر جاکر سمجھ آئی کہ ان کے والد صاحب یا دونوں چچاوں کو فورسز نے اس لیے اٹھائے ہیں کہ ان کا تعلق ڈاکٹر نسیم بلوچ سے ہے۔
آپ کو بھی علم ہے پاکستان میں قابض پاکستانی فورسز کی درندگی کی انتہا یہ ہے کہ جب بھی آپ ان کا کالا چہرہ دنیا کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ آپ کو کسی نہ کسی طریقے سے خاموش کرنے کیلے تشدد کا راستہ اپنا لیتی ہیں ۔
حال ہی میں اختر جان مینگل پاکستانی پارلیمنٹ میں بیٹھ کر جب جبری گمشدگیوں کا ذمہدار فوج خفیہ ایجنسیوں کو ٹھرایا تو ان کے سینیٹر اسلام آباد سے اغوا کیے گئے ،ڈاکٹر ماہ رنگ نے جعلی مقابلوں میں جبری لاپتہ افراد کو مارنے کا ذمہدار فوج کو ٹھرائی تو ایک سال سے جیل میں بند ہیں ۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ بھی وہی بات دھراتے ہیں کہ جبری گمشدگی کا سلسلہ بند کیاجائے تو انھیں سبق سکھانے کیلے ان کے عمر رسیدہ والد کو خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ لاپتہ کیاگیاہے ۔
پاکستانی فوج حکمرانوں سمیت انکے کھٹ پتلی بلوچستان کے وزیر اعلی اور دیگر چاپلوسوں سے بھی کوئی گلہ نہیں مگر اتنا یاد دلانا چاہیں گے کہ کھٹ پتلی وزیر اعلی سرفراز بگٹی آپ کچھ اپنی آنسووں کی شرم کریں جو دودن پہلے کسی پولیس والے کی ھلاکت پر ان کے والدین سامنے بہا رہے تھے ،مگر دوسری جانب اس محکمے کے اعلی آفیسر محمد بخش ساجدی بلوچ کو بلوچ روایات کو روند کر حب چوکی سے جبری لاپتہ کیاجاتا ہے ،لیکن آپ کی انسانیت نہیں جاگ رہی ہے کہ جس نے اپنی جوانی عوامی خدمت میں گزار دی ہے ،انھیں اعزاز دینے بجائے کیسے گھر سے گھیسٹ کر لے جایا جاتا ہے ؟ وزیر اعلی جن کی آپ چاپلوسی کرتے ہیں ان سے کم سے کم یہ پوچھیں کہ ایک شریف ریٹائرڈ آفیسر کو کم سے ایک کھٹ پتلی جوڈیشل مجسٹریٹ سے وارنٹ لیکر حراست میں لیکر ان کے ہاں پیش کرکے ریمانڈ لیتے تو آنسوں کا بھرم بچتا۔
