نصیر آباد( نامہ نگار )
بلوچ سیاسی کارکن اور کسان رہنما ظہیر احمد بلوچ نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر غلام رسول عمرانی کی سفارش پر ان کا نام محکمہ داخلہ کے ذریعے فورتھ شیڈول لسٹ میں شامل کیا گیا اور ان پر نظر بندی عائد کر دی گئی ہے۔
اپنے بیان میں ظہیر احمد بلوچ کا کہنا ہے کہ انہیں متعلقہ اداروں کے ذریعے ہراساں کیا جا رہا ہے تاکہ وہ ایک قبائلی جرگے کے فیصلے کو تسلیم کر لیں۔ ان کے مطابق مذکورہ جرگے میں یہ فیصلہ سنایا گیا تھا کہ ان کی بہن اور اس کی بیٹیوں کو وراثت سے محروم کر دیا جائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس فیصلے کی مخالفت اس بنیاد پر کر رہے ہیں کہ بلوچ قبائلی خواتین کے وراثتی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیوہ بہن اور اس کی یتیم بیٹیوں کے حقِ وراثت کے لیے اصولی مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ظہیر احمد بلوچ نے مزید الزام لگایا کہ سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول، ریاستی قوانین کو ذاتی یا علاقائی مفادات کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا قبائلی خواتین اور یتیم بچیاں برابر کے شہری نہیں ہیں اور کیا انہیں آئینی و جمہوری حقوق حاصل نہیں۔
