بلوچستان: مربوط حملے، کمزور حکمرانی اور ایک گہرے ہوتے بحران کا تجزیہ رفیع اللہ کاکڑ


بلوچستان کے تقریباً بارہ شہروں  میں بی ایل اے کی جانب سے کیے گئے مربوط حملے صوبے کی سلامتی کی صورتحال میں ایک نہایت تشویشناک اور سنگین پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان حملوں میں بے گناہ جانوں کا ضیاع افسوسناک اور ناقابلِ جواز ہے، اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

‎اگرچہ بلوچستان میں عسکریت پسند تشدد کوئی نئی بات نہیں، تاہم ان حالیہ حملوں کے چند پہلو سنجیدہ اور غیرجذباتی غور و فکر کے متقاضی ہیں۔ خاص طور پر یہ پہلی بار ہے کہ کوئٹہ شہر کے اندر متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو روایتی طور پر انتہائی حساس اور ہائی سکیورٹی زون تصور کیے جاتے ہیں، جہاں اہم صوبائی ادارے اور اعلیٰ حکام کی رہائش گاہیں واقع ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف موجودہ سکیورٹی انتظامات بلکہ اس وسیع تر طرزِ حکمرانی پر بھی سوالات اٹھاتی ہے جس کے تحت ایسے نقائص پیدا ہو چکے ہیں۔

‎اسی طرح ان حملوں کا جغرافیائی پھیلاؤ بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ متعدد شہروں اور قصبوں میں بیک وقت کارروائیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بی ایل اے کی تنظیمی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو ماضی کے ان مراحل سے مختلف ہے جہاں مربوط حملے محدود پیمانے اور چند مقامات تک ہی رہتے تھے۔ اس پیش رفت کا تجزیہ سنسنی خیزی کے بجائے اس لیے ضروری ہے تاکہ صوبے میں تشدد کے بدلتے ہوئے رجحانات کو سمجھا جا سکے۔

‎اب تک سرکاری بیانات اور مرکزی میڈیا میں زیادہ تر توجہ ریاست کی جانب سے مبینہ جوابی کامیابیوں پر مرکوز رہی ہے، جبکہ ان سیاسی اور ساختی عوامل پر سنجیدہ بحث تقریباً ناپید ہے جن کی وجہ سے یہ تنازع وقت کے ساتھ مزید شدت اختیار کرتا چلا گیا ہے۔ تشدد کی وضاحت محض بیرونی مداخلت کے بیانیے کے ذریعے کرنا تجزیاتی طور پر ناکافی ہے۔ وسیع اور دیرپا شورش کو مقامی سیاسی محرومیوں، طرزِ حکمرانی کی ناکامیوں اور ریاست و عوام کے درمیان طویل عرصے سے موجود فاصلے کو سمجھے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔

‎حالیہ برسوں میں ایک خاص طور پر تشویشناک رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ ایک ایسی تحریک میں خودکش حملے دیکھنے میں آ رہے ہیں جو تاریخی طور پر ایک سیکولر قوم پرست تحریک رہی ہے۔ یہ تبدیلی سنجیدہ مطالعے اور ریاستی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کی متقاضی ہے، کیونکہ یہ عوامی سطح پر کسی نہ کسی درجے کی حمایت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایسی حمایت کو محض بیرونی عوامل سے منسوب کرنا حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں ہوگا۔ اور نہ ہی ایسے کاروائیوں کو صرف طاقت کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔

‎اس بحران کی جڑ میں ریاست کا بلوچستان کے ساتھ اختیار کیا گیا نوآبادیاتی طرزِ عمل کارفرما نظر آتا ہے۔ صوبہ ایک نہایت آمرانہ اور مصنوعی نظامِ حکمرانی کے تحت چلایا جا رہا ہے، جو شراکتی اور نمائندہ صوبائی طرزِ حکومت کے بجائے بالواسطہ یا نیم نوآبادیاتی انتظام کی عکاسی کرتا ہے۔ موجودہ صوبائی سیاسی ڈھانچہ مصنوعی ہے اور شدید لیجٹمیسی بحرانِ کا شکار ہے، جس کا اظہار عوام میں اس حکومت کے لئے ناپسندیدگی میں نظر آتا ہے۔ یہ نمائندے پالیسی سازی، وسائل کی تقسیم یا انتظامی ترجیحات پر کوئی مؤثر اختیار نہیں رکھتے۔

‎عملی طور پر صوبے کے انتظامی امور پر عسکری اداروں کا غلبہ ہے، جہاں نہ صرف منتخب نمائندوں بلکہ صوبائی بیوروکریسی کو بھی مؤثر کردار حاصل نہیں۔ اس طرزِ حکمرانی کے نتیجے میں احتساب کمزور ہوا ہے، بدعنوانی جڑ پکڑ چکی ہے، اور وسائل کا رخ عوامی فلاح کے بجائے ذاتی مفادات کی طرف مڑ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی مواقع سکڑتے چلے گئے ہیں، جس سے روزگار متاثر ہوا اور عوامی بیگانگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

‎ان حکمرانی کی ناکامیوں کو ایک سخت پابندیوں والے میڈیا ماحول نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بلوچستان کی اصل صورتحال پر آزاد اور غیرجانبدار رپورٹنگ تقریباً ناپید ہے۔ چند معمولی استثناؤں کے علاوہ، مرکزی میڈیا اور تجزیہ کار بغیر تنقیدی جائزے کے سرکاری بیانیے کو دہراتے نظر آتے ہیں۔ قومی ٹی وی چینلز تک رسائی چند ریاستی مؤقف رکھنے والی آوازوں تک محدود ہے، جبکہ حقیقی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور آزاد تجزیہ کاروں کو منظم طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اور مینسٹریم میڈیا پر پاکستان پراپر کے نمائندے بیٹھ کر بلوچستان پر تجزیے کرتے ہیں اور بغیر کسی اختلاف کے ریاستی بیانیے کو پھیلاتے ہیں۔ 

‎سینئر عسکری قیادت اور سرکاری ترجمانوں کی جانب سے صوبائی حکومت کی کارکردگی کی حالیہ تعریفیں نہ صرف زمینی حقائق سے واضح طور پر متصادم ہیں بلکہ لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ کوئی بھی صحافی یا تجزیہ کار جو معمولی حد تک بھی آزادانہ مشاہدہ رکھتا ہو، ان دعوؤں کو موجودہ حالات سے ہم آہنگ پانا مشکل سمجھے گا۔ کوئٹہ کے میرے حالیہ دورے کے دوران عوامی مایوسی، بگڑتی ہوئی صورتحال اور مجموعی نااُمیدی صاف محسوس کی جا سکتی تھی—ایسی کیفیت جو قومی میڈیا کی رپورٹنگ میں تقریباً مکمل طور پر غائب ہے۔

‎اگر بلوچستان میں صورتحال کو واقعی بہتر بنانا ہے تو یہ محض سکیورٹی آپریشنز اور کنٹرولڈ بیانیوں سے ممکن نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ریاستی رویے میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے: نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی سے نکل کر شمولیتی اور نمائندہ نظام کی طرف بڑھنا، سیاسی انجینئرنگ کا خاتمہ کرنا، اور حقیقی عوامی نمائندگی کو ممکن بنانا ضروری ہے۔ بصورتِ دیگر تشدد اور عدم استحکام کے یہ سلسلے جاری رہیں گے، جن کا سب سے بڑا خمیازہ عام شہریوں کو ہی بھگتنا پڑے گا

نوٹ :- رفیع اللہ کاکڑ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے نقل کی گئی.

Post a Comment

Previous Post Next Post