کوئٹہ تھانہ پر حملے میں ایس ایچ او ھلاک ،پولیس لاپتہ افراد کو مقابلے کے نام پر قتل کررہاہے ،سماجی حلقے

 

کوئٹہ ( نامہ نگار )کوئٹہ مسلح افراد کی تھانہ پر حملہ ایس ایچ او پولیس تھانہ سریاب محمود خان بازئی  مارے گئے آپ کو علم ہے کوئٹہ کے حساس ریڈ زون میں مسلح بلوچ سرگرم ہیں، حملے کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے، جن میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس فیصل خان یوسفزئی بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق نوشکی کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) بھی مسلح بلوچوں کے قبضے میں ہیں۔ حکومت بلوچستان کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پر امن جہد کرنے والے سیاسی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں  حکومت نےایک بار پھر وہی پرانا، فرسودہ اور ناقابلِ یقین بیانیہ دہرایا ہے—لاپتہ اور یا گرفتار بلوچ مرد و خواتین کو جیلوں اور عقوبت خانوں سے نکال کر جعلی مقابلوں میں مار دیاگیا ہے ۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب اس سے چند گھنٹے قبل سیکیورٹی فورسز پر حملے میں چند فوجی اہلکار ہلاک اور یا کچھ زخمی ہوئے  اور یوں “جوابی کارروائی” کے نام پر انتقام کو قانون کا لبادہ اوڑھا دیا گیا۔


 سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر یہ لوگ واقعی دہشت گرد تھے تو کیا وہ اس قدر نادان تھے کہ لڑائی کے دوران سب ایک ہی کمرے میں گھس کر مارے جائیں؟ یا ایک کمرے سے حملہ اور ہو جائیں ؟؟؟؟

یہ کہانی اب کسی بچے کو بھی قائل نہیں کر سکتی۔ یہ ڈیجیٹل دور ہے—ہر گرفتاری، ہر گمشدگی اور ہر لاش کا ریکارڈ موجود ہے۔ ریاست اگر انصاف پر یقین رکھتی ہے تو عدالتیں استعمال کرے، جعلی مقابلے نہیں؛ کیونکہ طاقت سے سچ دفن نہیں ہوتا، وہ مزید بے نقاب ہوتا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post