مستونگ دشت مقابلہ بھی جعلی انکاونٹر ثابت پہلے سے زیرحراست پانچ افراد کو ہلاک کیا گیا

 


مستونگ ( نامہ نگار )
مستونگ کے علاقے دشت میں دو روز پہلے سی ٹی ڈی کا پانچ افراد کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ جعلی انکاونٹر ثابت ہوا. ذرائع کے مطابق پانچوں افراد کی شناخت پہلے سے لاپتہ افراد کے طور پر ہوئی ہے جو ضلع قلات کے علاقے نرمک جوہان کے رہائشی ہیں تفصیلات کے مطابق اسلم ولد کنڑ خان لہڑی، غلام حسین لہڑی، شاہ مراد ولد نوکر خان لہڑی اور شفو ولد رئیس شادو لہڑی جو نرمک جوہان قلات سے تعلق رکھتے ہیں کو مختلف اوقات میں فورسز نے حراست میں لے کر جبری گمشدگی کا شکار بنایا جن کے گمشدگی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے. اسلم ولد کنڑ خان کی گمشدگی کی خبر 17 جنوری 2025 کو باور نیوز سمیت مختلف نیوز پیجز پر شائع کی گئی.
دو روز پہلے 19 جنوری کو سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا کہ مستونگ کے علاقے دشت میں چار بج کر پینتالیس منٹ پر پانچ مسلح افراد کو فورسز نے اس وقت گھیرے میں لے لیا جب وہ تخریب کاری اور کوئٹہ سبی شاہراہ بلاک کرنے کی کوشش کررہے تھے مقابلے میں پانچوں افراد کو ہلاک کیا گیا اور ان کے قبضے سے گولہ بارود برآمد کیا گیا. حسب سابق سی ٹی ڈی کا مقابلے کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا ان پانچوں ہلاک شدگان میں سے چار کی شناخت ہوگئی ہے جنھیں مختلف اوقات میں ایک سال پہلے فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا اور 19 جنوری 2026 کی شام چار بجے مستونگ دشت میں لاکر ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا.
واضح رہے کہ بلوچستان میں تواتر سے زیر حراست افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا جاتا ہے جس پر ملکی اور عالمی سطع پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے.

Post a Comment

Previous Post Next Post