کوئٹہ ( پریس ریلیز)
بلوچستان میں کمسن اور نابالغ بچوں کی اغوا نما ماورائے عدالت جبری گمشدگیاں ایک کھلا اور سنگین انسانی المیہ بن چکی ہیں۔ یہ عمل کسی بھی صورت میں انسانیت، قانون اور اخلاقیات کے دائرے میں نہیں آتا بلکہ فرعونیت اور یزیدیت کی بدترین مثال ہے۔ صوبے میں خطرناک اور تشویشناک رجحانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جہاں ایسے کمسن بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن کا کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق تک ثابت نہیں کیا جاتا۔
ریاستی فورسز کی جانب سے ان معصوم بچوں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ بچے بعد میں بازیاب بھی ہو جائیں تو وہ شدید ذہنی اور جسمانی صدمات کے ساتھ واپس آتے ہیں، کیونکہ کم عمری میں ان کی ذہنی بلوغت اس قابل نہیں ہوتی کہ وہ عقوبت خانوں اور ٹارچر سیلز میں غیر انسانی سلوک برداشت کر سکیں۔ اس کے اثرات ان کی پوری زندگی پر پڑتے ہیں۔
گزشتہ رات بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے قمبرانی سے 13 سالہ کمسن بچہ گہرام ولد فیض محمد کو ریاستی فورسز کے ادارے سی ٹی ڈی نے ماورائے عدالت گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ ایک نابالغ بچے کے ساتھ ایسا ناروا اور غیر قانونی سلوک نہ صرف آئینِ پاکستان بلکہ عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی ان سنگین پامالیوں کے خلاف ملکی و بین الاقوامی تنظیمیں، سول سوسائٹی، اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ خاموشی خود ایک جرم ہے۔
ہم اہلِ بلوچستان مطالبہ کرتے ہیں کہ:
بلوچستان میں انسانی حقوق کی روزمرہ خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیا جائے
تمام کمسن اور نابالغ بچے اور بچیاں، جو جبری گمشدگی کا شکار ہیں، فوری طور پر بازیاب کرائے جائیں
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے
یاد رکھا جائے کہ نابالغ بچے قیامت کے دن سوال جواب کے مکلف نہیں ہوں گے، مگر ان پر ظلم کرنے والے ضرور جواب دہ ہوں گے۔
