پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہے ۔رپورٹ

 


اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) سہراب برکت پر سفری پابندی لگانا، پھر گرفتاری، مطیع اللہ جان کا ٹرائل، احمد نورانی کے خاندان کے خلاف جبر—یہ سب ایک ہی مقصد رکھتے ہیں: تمام صحافیوں کو یہ باور کرانا کہ جو خبر، بیان یا رائے ریاست کو منظور نہ ہو، اسے کوئی صحافی نشر نہ کرے۔ خود ہی سنسر کریں؛ ہر سوال سے پہلے ایف آئی آر، پابندیوں اور جیل کا سوچیں؛ اور ہر خبر نشر کرنے سے پہلے اپنے خاندان کو ذہن میں رکھیں۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اب بھی آزاد صحافت کر رہے ہیں، ریاست سے تلخ سوال پوچھ رہے ہیں یا مظلوموں کی آواز بن رہے ہیں—تو آپ خود کو دھوکا دے رہے ہیں۔ آپ نے اپنے ذہن میں اپنی حدیں متعین کرلی ہیں۔ یہ خود ساختہ پابندیاں کسی صحافتی اصول کے تحت نہیں، بلکہ محض خوف کا نتیجہ ہیں، جنہیں آپ دانشمندی کا نام دے کر خود کو لوریاں دیتے رہتے ہیں۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ خود فریبی صرف صحافیوں تک محدود نہیں—وکیل، جج، سیاست دان، بیوروکریٹ، سب ہی اسی کیفیت کے اسیر ہیں۔ اسلام آباد کے چھ ججز کی بے بسی، وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف ٹرائل، پی ٹی آئی اور BYC کی قیادت کی طویل قید، عوام کے ووٹ کے ساتھ ہونے والا سلوک—یہ سب اسی مقصد کے لیے ہے کہ ہم بطور قوم اپنے ذہنوں میں حدیں مقرر کرلیں، اور اس خود ساختہ احتیاط کو دانشمندی کا نام دے کر خود کو مطمئن کرتے رہیں۔

یہ خود فریبی ہماری اجتماعی ضرورت بن چکی ہے، جو ہمیں اپنی غلامی اور ذلت کی اصل حقیقت کا سامنا کرنے سے روکتی ہے۔

اور اسی سچ سے مسلسل فرار کے باعث ہم عارضی غلامی اور ذلت کو اپنا مستقل مقدر بناتے جا رہے ہیں۔ عوام کے مقبول نمائندوں کو زہنی مریض گرداننے والے دراصل ۲۴ کروڑ کو زہنی اسیر بنا کے رکھنا چاہتے ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post