خضدار گھوڑا چوک پر قومی شاہراہ بند—زیدی فائرنگ کیس کی خاتون زخمی بھی چل بسی، ملزمان کی گرفتاری کے مطالبے پر لواحقین کا احتجاج، انتظامیہ کی یقین دہانی پر دھرنا ختم



خضدار ( نامہ نگار ) زیدی میں چند روز قبل ہونے والی فائرنگ کے واقعے میں شدید زخمی ہونے والی خاتون آج دم توڑ گئیں، جس کے بعد لواحقین نے خضدار کے گھوڑا چوک پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو مکمل طور پر ٹریفک کے لیے بند کردیا۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے اسی واقعے میں خاتون کا شوہر موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا تھا، جبکہ خاتون کئی دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد آج چل بسیں۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے ملزمان بااثر ہیں اور سرکاری پشت پناہی کے باعث تاحال گرفتار نہیں کیے جاسکے، جس سے ورثاء میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
احتجاج میں بی این پی عوامی کے سینئر رہنما میر جمیل باجوئی*، *قبائلی عمائدین اور باجوئی قبیلے کے درجنوں افراد شریک تھے۔* *مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے، بصورتِ دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
بعد ازاں  ایڈیشنل ایس ایس پی خضدار موقع پر پہنچے اور لواحقین سے مذاکرات کیے۔ انہوں نے تحریری طور پر یقین دہانی کرائی کہ تین دن کے اندر فائرنگ میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا۔ انتظامیہ کی تحریری یقین دہانی کے بعد ورثاء نے احتجاج ختم کردیا، جس کے نتیجے میں قومی شاہراہ کو دوبارہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post