فتنتہ الباکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف پھر سے ہرزہ سرائی کرکے انھیں واجب القتل قرار دیا ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان، پاکستان کا حصہ ہے اور کبھی الگ نہیں ہونے دیں گے ۔
یہ باتیں انہوں نے راولپنڈی میں آئی ایس پی آر کے زیراہتمام ہلال ٹالکس 2025 پروگرام کے دوران اساتذہ سے خصوصی گفتگو میں کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جو گمراہ قسم کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ بلوچستان کبھی علیحدہ ہوسکتا ہے، بلوچستان کبھی علیحدہ نہیں ہوسکتا کیوں کہ بلوچستان پاکستان کی معیشت کا بھنڈار ہے ۔
فتنہ الدنیا کے پروکسی ترجمان نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیر رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف پھر سے ہرزہ سرائی کرکے انہیں بھارتی پروکسی اور واجب القتل قرار دیا ۔
سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج بلوچ آزادی پسندوں کی عسکری طاقت اور بلوچستان میں اٹھے والی عوامی آواز و غم غصے سے شدید پریشانی و خوف کا شکار ہے۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اب میڈیا ،تعلیمی اداروں ،اساتذہ ، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ،تاجر و ملازمین سے روزانہ کی بنیاد پربراہ راست بلوچستان میں اٹھنے والی عوامی آواز، آزادی پسندوں اور ہندوستان پر الزام تراشی کرتے رہتے ہیں۔
انہوں نے ڈاکٹر ماہ ماہ رنگ بلوچ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ان ڈاکٹر صاحبہ کا نام لیا، ان ڈاکٹر صاحبہ سے پوچھیں کہ آپ ایک طرف روتی ہیں کہ میں تو اسکالرشپ پر پڑھی ہوں، لیکن تمہیں ناروے کے ٹکٹ اور پیسے کون دے رہا ہے اور جلسوں کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے اور یہ جو یہود و ہندو تمہاری اتنی حمایت کیوں کرتے ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوتا ہے، ان عسکریت پسندوں کی لاشوں سے تمہارا کیا تعلق ہے؟ وہ تو عسکریت پسند ہیں، انہوں نے عورتوں اور بچوں کو مارا ہے اور اپنے ہی جلسوں میں اپنے ہی لوگوں کو مرواکر ان کی لاشیں لے کر پھرتی ہیں اور ان پر سیاست کرتی ہو تو تم کیا ہو، تم خود بھی دہشت گردوں کی ایک پراکسی ہو۔
آپ کو علم ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ میں جانبحق سرمچاروں کی لاشوں کی حوالگی کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ جب ہسپتال میں مسلح تنظیم اور اہلکاروں کی ہلاکتوں کی جاری کی گئی تعداد سے زائد لاشیں پہنچائی گئیں تو ماہ رنگ نے یہ سوال اٹھایا کہ جو اضافی لاشیں ہیں وہ کون ہیں؟
جعلی مقابلوں میں پہلے سے جبری گمشدگی کے شکار افراد کو قتل کرنے کا پاکستانی فورسز کی ایک ریکارڈ موجود ہے ۔اسی لئے لاپتہ افراد لواحقین نے اسرار کیا وہ اضافی لاشیں ہمیں شناخت کے لئے دکھائی جائیں جنہیں بعد ازاں خاموشی اور رازداری کے ساتھ کاسی قبرستان میں دفن بھی کیا گیا جن کی تعداد 13 بتائی گئی۔
