تربت پاکستانی فورسز کا آبادیوں پر چھاپہ، 17 افراد جبری لاپتہ ,ایک لاپتہ شخص کی نعش برآمد

 


تربت ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے کوشک ملک آباد میں پاکستانی فورسز کا گھروں پر چھاپہ، تشدد اور درجنوں افراد جبری گمشدہ کیے گئے۔ جبکہ رواں ہفتے جبری گمشدگی کے شکار نوجوان کی نعش  ملی ہے۔

تفصیلات کے مطابق  تربت کے نواحی علاقوں ملک آباد اور کوشک میں گزشتہ شب فورسز نے ایک وسیع سرچ آپریشن کیا۔ اس دوران فورسز نے  عبدالرحمن ولد عبدالمجید، حمل امام ولد امام بخش، ظہور احمد ولد مراد حاصل، خلیل احمد ولد مراد حاصل، اخلاق ولد ظہور احمد، طیب ولد پیر محمد، ملنگ ولد غلام محمد، نصیب ولد نسیم احمد، علی احمد ولد غلام محمد، محبوب ولد محمد، حامد ولد محمد، فدا ولد علی احمد، عمیر ولد علی احمد، شاہ سلیم ولد الطاف، حفیظ ولد عبدالواحد اور ادیب ولد عبدالواحد ساکنان کوشک ملک آباد کو حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا ۔

تاحال دیگر جبری افراد کی شناخت نہیں ہوپائی ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق فورسز نے گھروں پر چھاپے کے دوران خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بھی  بنایا یے ۔

دوسری فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار نوجوان صوالی ولد عبدالواحد سکنہ ناصر آباد کی  تشدد زدہ نعش ملی ہے۔ جنھیں رواں ہفتے تربت سول ہسپتال کے قریب سے لاپتہ کیاگیا تھا ۔

مقتول کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ پیشے کے اعتبار سے بیرون ملک مقیم تھے جہاں وہ محنت مزدوری کرتے تھے اور حال ہی میں متحدہ عرب امارات سے چھٹیاں گزارنے اپنے آبائی علاقے واپس آئے تھے، کہ 2 جون کو تربت کے سول اسپتال کے احاطے سے اغوا کیا گیا۔ دو دن بعد، 4 جون کو واحد کی لاش ایک ویران علاقے سے برآمد ہوئی۔

ان کے جسم پر سگریٹ سے جلائے جانے سمیت تشدد کے متعدد نشانات پائے گئے ہیں جبکہ ان کے ایک آنکھ کو پھوڑ کر چہرہ مسخ کردیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں کے مطابق، درجنوں نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد یا تو طویل عرصے تک حراست میں رکھا جاتا ہے یا ان کی تشدد زدہ لاشیں ویران علاقوں سے برآمد ہوتی ہیں۔

حالیہ کچھ وقتوں سے بلوچستان میں جبری گمشدگی افراد کی لاشیں ملنے کے سلسلے میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ آواران، کیچ، قلات، مستونگ اور دیگر علاقوں میں رواں ہفتے درجنوں افراد کی لاشیں ملی ہے جو پہلے لاپتہ تھے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post